رسول اللہ کا کردار
الرسالہ، ستمبر ۱۹۸۶، صفحہ ۲
کی وجہ سے اس کی مالی امداد بند نہ کرو۔ بلکہ اس کے جرم سے درگزر کرتے ہوئے اس کی معاشی امداد جاری رکھو۔
اسی طرح حضرت ابو بکر ہی کا واقعہ ہے کہ ایک بار وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ ایک شخص نے آکر آپ کو گالی دی۔ حضرت ابو بکر پہلی بار گالی سن کر چپ رہے دوسری بار اس نے گالی دی تو اس وقت بھی آپ چپ رہے۔ مگر اس نے جب تیسری بار بد زبانی کی تو آپ خاموش نہ رہ سکے اور کچھ بول اٹھے۔ یہ دیکھ کر رسول اللہ فوراً وہاں سے اٹھ گئے۔ حضرت ابو بکر نے عرض کیا۔ یا رسول اللہ کیا آپ مجھ سے خفا ہو گئے ۔ فرمایا" ابو بکر جب تم چپ تھے، خدا کا فرشتہ تمہاری طرف سے کھڑا تھا۔ جب تم نے جواب دیا تو وہ ہٹ گیا۔ " سنن ابی داؤد ، کتاب الادب ، باب في الانتصار ) ۔
گویا برائی کے جواب میں جب آدمی اپنی طرف سے کوئی انتقامی کارروائی نہیں کرتا تو وہاں خدا اس کی طرف سے انتقام لینے کے لئے موجود ہوتا ہے۔ مگر جب آدمی خود انتقام لینے پر اتر آئے تو خدا اس کے معاملہ کو اس کے حوالے کر دیتا ہے اور ظاہر ہے کہ کوئی انسان خدا سے بہتر انتقام نہیں لے سکتا۔ حضرت علی بیان کرتے ہیں کہ ایک بار رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک یہودی عالم سے کچھ اشرفیاں قرض لیں۔ اس کے بعد ایک روز وہ تقاضے کے لئے پہنچا۔ آپ نے فرمایا کہ اس وقت میرے پاس تمہارا قرض ادا کرنے کے لئے کچھ نہیں ہے۔ یہودی نے جواب دیا " جب تک تو میرا قرض ادا نہ کرے گا میں تجھ کو نہیں چھوڑوں گا۔ " چنانچہ ظہر کے وقت سے لے کر وہ اگلی صبح تک آپ کا دھرنا دیے بیٹھا رہا۔ یہ وہ زمانہ تھا جب کہ مدینہ میں آپ کا اقتدار قائم ہو چکا تھا۔ چنانچہ آپ کے ساتھیوں نے اس کو ڈانٹ کر بھگانا چاہا مگر آپ نے سب کو منع کر دیا۔ لوگوں نے کہا " ’’حضور ایک یہودی آپ کو قید کئے ہوئے ہے"۔ آپ نے فرمایا کہ " ہاں ۔ مگر مجھے ظلم کرنے سے منع کیا گیا ہے "۔ جب دوسرا دن شروع ہوا تو یہودی کی آنکھیں کھل گئیں اور آپ کے اس عمل سے وہ اتنا متاثر ہوا کہ مسلمان ہو گیا۔ یہ یہودی مدینہ کا ایک بہت مالدار شخص تھا۔ کل تک اس نے چند اشرفیوں کے لئے آپ کا گھیراؤ کر رکھا تھا۔ اور اب آپ کے اعلیٰ کردار سے اتنا متاثر ہوا کہ ساری دولت آپ کے سامنے حاضر کر دی اور کہا کہ اس کو آپ جس طرح چاہیں خرچ کریں۔ (بیہقی)
عبداللہ ابن ابی الحصماء بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک بار میں نے خرید و فروخت کا کوئی معاملہ کیا۔ ابھی معاملہ پورا نہیں ہوا تھا کہ مجھے کچھ ضرورت پیش آگئی۔ میں نے کہا کہ آپ ٹھہریئے۔ میں گھر سے واپس آتا ہوں تو بقیہ معاملہ کو مکمل کرتا ہوں۔ مگر واپس آنے کے بعد میں ایسا
‹ Previous page Next page › Contents of September 1986 All issues