Al-Risala · September 1986 · page 4

رسول اللہ کا کردار

الرسالہ، ستمبر ۱۹۸۶، صفحہ ۴

مشغول ہوا کہ اپنا وعدہ بھول گیا۔ تین روز بعد مجھے اپنا وعدہ یاد آیا تو میں اس مقام پر پہنچا، دیکھا کہ وہاں رسول اللہ موجود ہیں۔ آپ نے فرمایا "تم نے مجھ کو بہت تکلیف دی۔ میں تین روز سے یہاں تمہارا انتظار کر رہا ہوں"۔ (ابوداود)

اس طرح کے عمل میں اتنی کشش ہے کہ کٹر سے کٹر آدمی بھی متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتا۔ حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ یہودیوں کی ایک جماعت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی جب وہ آپ کے پاس پہنچے تو انھوں نے کہا السام علیکم (تباہی ہو تم پر)، حضرت عائشہ سے نہیں رہا گیا۔ انھوں نے کہا "بلکہ تم لوگ غارت ہو جاؤ اور تم پر خدا کی لعنت ہو" آپ نے سنا تو منع فرمایا۔ آپ نے کہا "خدا مہربان ہے اور وہ ہر کام میں مہربانی کو پسند کرتا ہے۔ " حقیقت یہ ہے کہ دشمن کا دل جیتنے کے لئے اس سے بڑا کوئی حربہ نہیں ہو سکتا کہ اس کی بدزبانی کا جواب نرم باتوں سے دیا جائے۔ ہتھیار کے حملے کی تاب لانا تو ممکن ہے مگر کردار کے حملے کے مقابلے میں کوئی ٹھہر نہیں سکتا۔ یہاں ہر شخص کو اپنی شکست تسلیم کرنی پڑتی ہے۔

براء بن عازب بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حدیبیہ کے موقع پر تین شرطوں کے ساتھ قریش سے معاہدہ کیا تھا جن میں سے ایک شرط یہ تھی :

جو غیر مسلم اسلام قبول کر کے مسلمانوں کے یہاں چلا جائے اس کو وہ واپس کر دیں گے مگر جو مسلمان ہمارے پاس آجائے گا ہم اس کو واپس نہیں کریں گے۔

یہ معاہدہ ہو رہا تھا کہ مکہ سے ایک مسلم نوجوان ابو جندل حدیبیہ پہنچے۔ ان کو اسلام قبول کرنے کے جرم میں مکہ والوں نے قید کر رکھا تھا اور وہ بیڑیاں پہنے ہوئے گھتے پڑتے اس حال میں یہاں پہنچے تھے کہ ان کا جسم بیڑیوں کی رگڑ سے زخمی, ہورہا تھا۔ وہ فریاد کر رہے تھے اور کہہ رہے تھے کہ مجھے دشمنوں کے چنگل سے بچائیے۔ یہ بے حد نازک موقع تھا۔ تمام صحابہ کی تلواریں کھنچ گئیں۔ ابو جندل کے جذباتی واقعہ کے بعد ہر شخص کا رجحان یہ ہوگیا کہ معاہدہ کو کالعدم کرکے ابو جندل کی زندگی کو بچایا جائے ۔ دوسری طرف مکہ والوں نے کہا " محمد ! یہ معاہدہ کی تعمیل کا پہلا موقع ہے"۔ خدا کے رسول نے فیصلہ کیا کہ جو معاہدہ ہو چکا ہے اب اس سے ہم پھر نہیں سکتے۔ چنانچہ انہیں دوبارہ مکہ والوں کے حوالے کر دیا گیا۔ بظاہر اس واقعہ کے معنی صرف یہ تھے کہ مظلوم کو دوبارہ ظالم کے چنگل میں دے دیا جائے ۔ مگر اس واقعہ میں وعدہ پورا کرنے کا جو شاندار مظاہرہ ہوا اس نے ظالموں کو اندر سے پچھاڑ دیا۔ اگر چہ وہ ابو جندل کو اپنے ساتھ لے گئے اور انہیں اپنے یہاں قید میں رکھا۔ مگر ایفائے عہد

‹ Previous page Next page › Contents of September 1986 All issues

Printed page