ٹوٹنے کے بعد
الرسالہ، ستمبر ۱۹۸۶، صفحہ ۹
ٹوٹنے کے بعد
آپ لکڑی کو توڑیں تو وہ ٹوٹ کر دو ٹکڑے ہو جائے گی۔ اس کا ٹوٹنا ہمیشہ کے لیے ٹوٹنا بن جائے گا۔ لکڑی اپنے وجود کو دوبارہ پہلے کی طرح ایک یں بنا سکتی۔ مگر زندہ چیزوں کا معاملہ اس کے بالکل برعکس ہے۔ نہ زندہ چیز ٹوٹنے کے بعد بھی زندہ رہتی ہے ۔ ایک زندہ امیبا جب ٹوٹتا ہے تو وہ دو زندہ امیبا بن جاتا ہے۔
ہماری دنیا میں اس طرح کے واقعات خدا کی عظیم نشانی ہیں۔ وہ بتاتے ہیں کہ ایک زندہ انسان کے لیے خدا نے اس دنیا میں کتنا بڑا امکان چھپا رکھا ہے۔ یہ امکان کہ اس کی کوئی بھی شکست آخری شکست نہ بنے۔ کوئی بھی حادثہ اس کو آخری طور پر ختم نہ کرنے پائے ۔ ایک زندہ چیز یا ایک زندہ انسان کو کبھی توڑا نہیں جا سکتا۔ زندہ چیز اگر ٹوٹتی ہے تو اس کا ہر حصہ ایک نئے زندہ وجود کی شکل اختیار کر لیتا ہے ۔ اور نتیجہ پہلے سے بھی زیادہ عظیم بن جاتا ہے۔ انسان ایک ایسی مخلوق ہے کہ ناکامی اس کو فکری گہرائی عطا کرتی ہے۔ رکاوٹیں اس کے ذہن کے بند دروازے کو کھولتی ہیں۔ حالات اگر اس کے وجود کو ٹکڑے ٹکڑے کر دیں تو اس کا ہر ٹکڑا دوبارہ نئی زندگی حاصل کر لیتا ہے۔
اس امکان نے اس دنیا میں کسی انسان کو ابدی طور پر نا قابل تسخیر بنا دیا ہے، شرط یہ ہے کہ وہ زندہ ہو، وہ ٹوٹنے کے بعد دوبارہ اپنی قوتوں کو متحد کرنا جانتا ہو۔ بازی کھونے کے بعد وہ اپنا حوصلہ نہ کھوئے ۔ ایک کشتی ٹوٹنے کے بعد وہ دوبارہ نئی کشتی کے ذریعہ اپنا سفر شروع کر سکے ۔
‹ Previous page Next page › Contents of September 1986 All issues