Al-Risala · September 1986 · page 10

قومی روایات

الرسالہ، ستمبر ۱۹۸۶، صفحہ ۱۰

قومی روایات

مسٹر سرجیت سنگھ برنالہ پنجاب کے چیف منسٹر ہیں۔ ان کے حکم سے ۳۰ اپریل ۱۹۸۶ء کو مسلح پولیس امرتسر کے گردوارہ میں داخل ہوئی تا کہ وہاں سے دہشت پسندوں کو نکالے ۔ یہ واقعہ سکھ روایات کے خلاف تھا۔ اس سے گردوارہ کا تقدس مجروح ہوا۔ چنانچہ اکال تخت نے مسٹر برنالہ کو ۷ مئی ۱۹۸۶ء کو اپنے یہاں بلایا اور ان کے کفارے کے لیے چند سزاؤں کا اعلان کیا۔ ان میں سے ایک یہ تھی کہ مسٹر برنالہ کسی گردوارہ میں ایک ہفتہ تک لوگوں کے جوتے صاف کریں۔ مسٹر برنالہ نے اس فیصلہ کو قبول کر لیا اور اکال تخت کے فیصلہ کے مطابق ایک ہفتہ تک گردوارہ کے جوتے صاف کرتے رہے ۔ اس واقعہ پر اخباروں میں سخت تبصرے کیے گیے۔ ٹائمز آف انڈیا نے لکھا کہ برنالہ اپنے آپ کو بے عزت کر رہے ہیں :

Barnala humiliates himself. (May 19, 1986)

اس سلسلہ میں مسٹر برنالہ کی ایک گفتگو اخبارات میں آئی ہے جس کا ایک حصہ یہ ہے : The Chief Minister said he accepted the verdict of the Akal Takht in all humility as a devout Sikh for the glory of the Panth and to maintain the highest Sikh traditions. چیف منسٹر نے سوالات کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ انھوں نے اکال تخت کے فیصلہ کو ایک سچے سکھ کی طرح پوری انکساری کے ساتھ پنتھ کی عظمت کے لیے قبول کیا ہے ۔ اور اس لیے تا کہ اعلیٰ سکھ روایات برقرار رہ سکیں ۔

قومی زندگی ہمیشہ روایات پر چلتی ہے ۔ یہ روایتیں قوم کے بڑے لوگ بناتے ہیں اور وہی اس کو توڑتے بھی ہیں۔ اعلیٰ روایات کے بغیر کوئی قوم اعلیٰ ترقی نہیں کر سکتی ۔ وہ قوم خوش قسمت ہے جس کے بڑے لوگ اعلیٰ روایات کو باقی رکھنے والے ہوں خواہ اس کی خاطر انھیں اپنی ذات کو نیچے گرا دینا پڑے ۔ اس کے برعکس وہ قوم بدقسمت ہے جس کے بڑے لوگوں کا حال یہ ہو کہ وہ اپنے آپ کو بچانے کی خاطر اپنی قومی اور اخلاقی روایات کو توڑ ڈالیں ۔ وہ اپنی ذات کو اونچا رکھنے کے لیے اپنی قوم کو نیچا کر دیں ۔

‹ Previous page Next page › Contents of September 1986 All issues

Printed page