قیمت میں اضافہ
الرسالہ، ستمبر ۱۹۸۶، صفحہ ۱۴
اس طرح کی باتیں جو آج بھی بڑے پیمانے پر کہی جا رہی ہیں ، اس پر جھنجھلانے کے بجائے ہمیں اس کے سبب پر غور کرنا چاہئے ۔ حقیقت یہ ہے کہ اس کی وجہ صرف ایک ہے۔ اور وہ یہ کہ عورت اور مرد کے فرق کے بارے میں جدید نظریہ ابھی تک صرف علمی تحقیق ہے ، وہ ابھی تک فکری انقلاب نہ بن سکا۔ اس دنیا کا قاعدہ ہے کہ کوئی نقطۂ نظر خواہ وہ کتنا ہی مدلل ہوا، وہ لوگوں کے درمیان اس وقت تک عمومی قبولیت حاصل نہیں کرتا جب تک اس کو فکری انقلاب کا درجہ نہ دے دیا جائے ۔
پچھلے زمانہ میں جو انبیاء آئے ، ان میں سے ہر نبی توحید کو دلائل کے اعتبار سے ثابت شدہ بناتا رہا۔ اس کے باوجود یہ ممکن نہیں ہوا کہ شرک کا خاتمہ ہو اور توحید کو عمومی غلبہ حاصل ہو جائے ۔ یہ دوسرا کام صرف اس وقت ہو جب کہ پیغمبر اسلام اور آپ کے اصحاب اٹھے اور اللہ کی خصوصی مدد کے ذریعہ توحید کی حقانیت کو فکری انقلاب کے درجہ تک پہنچا دیا ۔
اسی طرح موجودہ زمانہ میں بھی ایک فکری انقلاب درکار ہے۔ علمِ جدید نے اس کے حق میں استدلالی بنیاد فراہم کر دی ہے۔ اب ضرورت یہ ہے کہ اہل دین اس مہم کو آگے بڑھائیں اور اس کے حق میں ضروری جدوجہد کر کے اس کو عالمی فکری انقلاب کے درجہ تک پہنچا دیں۔ اگلی سطروں کا مقصد یہی ہے کہ لوگوں کو اس تاریخی جدوجہد کے لیے اٹھنے پر آمادہ کیا جاسکے ۔
قیمت میں اضافہ
تمام چیزوں میں غیر معمولی اضافہ کی وجہ سے الرسالہ کے اخراجات ناقابل برداشت حد تک بڑھ گئے ہیں۔ چنانچہ یہ تجویز ہے کہ الرسالہ کی قیمت میں اضافہ کر کے فی شمارہ چار روپیہ اور سالانہ ۴۸ روپے کر دیا جائے ۔ اس سلسلہ میں آخری اعلان آئندہ کیا جائے گا۔
‹ Previous page Next page › Contents of September 1986 All issues