فطرت کا فیصلہ
الرسالہ، ستمبر ۱۹۸۶، صفحہ ۱۶
محققین نے پایا ہے کہ ہارمون خود دماغ کے ڈھانچے کو بدل دیتے ہیں۔ نر اور مادہ کے دماغ (Brain) میں فرق پایا گیا ہے اور اس کا سبب دونوں کے ہارمون کا فرق ہے۔ ان تحقیقات کے ذریعہ دونوں صنفوں کے درمیان ناقابل انکار فرق (Undeniable difference) موجود ہے۔ یہ تحقیقات واضح طور پر ثابت کر رہی ہیں کہ عورت اور مرد کی تخلیق میں فرق ہے اور جب دونوں میں فرق ہے تو دونوں کا دائرہ عمل الگ الگ ہونا چاہئے ۔ مگر جو لوگ لمبی مدت تک پچھلے خیال کے ساتھ وابستہ رہے ہیں وہ ابھی اس کو ماننے کے لئے تیار نہیں۔ ایک مغربی عالم نے کہا: Whether these physiological differences destine men and women for separate roles in society is another and far more delicate question. کیا یہ عضویاتی فرق مردوں اور عورتوں کے لئے سماج کے اندر الگ الگ کردار مقرر کرتے ہیں، یہ ایک علیحدہ اور زیادہ پیچیدہ سوال ہے (ریڈرز ڈائجسٹ اکتوبر ۱۹۸۱)
اس سے پہلے امریکہ کے ایک اور ہفتہ وار میگزین ٹائم (۲۰ مارچ 1972) نے اس موضوع پر تفصیلی رپورٹ شائع کی تھی۔ میگزین کے وسیع ادارتی اسٹاف میں سے ۳۰ تعلیم یافتہ خواتین کو مقرر کیا گیا کہ وہ ”جدید امریکہ میں عورتوں کی حالت کا جائزہ لیں۔ انھوں نے ہر میدان میں اس کا جائزہ لیا اور ہر شعبہ کے ماہرین سے مدد لی۔ اس کے بعد انھوں نے ایک مفصل رپورٹ تیار کی جو خصوصی نمبر کے طور پر مذکورہ میگزین میں شائع ہوئی۔ راقم الحروف نے اس رپورٹ کا ایک خلاصہ اسی زمانہ میں الجمعیتہ و بجلی (۲ نومبر ۱۹۷۷) میں شائع کیا تھا۔
ٹائم کی اس رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ سو سالہ جد وجہد کے باوجود امریکی عورت ابھی تک اسی مقام پر ہے جہاں وہ سو سال پہلے تھی۔ مرد ابھی تک جدید امریکہ میں جنسِ غالب کی حیثیت رکھتا ہے۔ اس کی وجہ قدیم نظریہ کے مطابق سماجی نہیں ہے بلکہ تمام تر حیاتیاتی اور نفسیاتی ہے۔ مغرب میں آزادی نسواں کی تحریک سو سالہ تجربہ کے بعد اب اس رائے پر پہنچی ہے کہ حیاتیاتی حقائق عورت کو مرد کے برابر مقام دینے میں رکاوٹ ہیں۔ یہ قدرت کا ظلم ہے نہ کہ سماج کا ظلم۔ اس لئے اب ان کا مطالبہ یہ ہے کہ سائنس آف ایوجینیکس کے ذریعہ رحم مادر میں جینیٹک کوڈ کو بدل دیا جائے اور اس طرح نیا حیاتیاتی نظام وجود میں لایا جائے جس میں نئے قسم کی عورتیں پیدا ہوں اور مردوں کی برتری ختم ہو کر یکساں صنفی صلاحیت کا سماج بن سکے۔ یہ تجویز ایسی ہی ہے جیسے کوئی
‹ Previous page Next page › Contents of September 1986 All issues