فطرت سے جنگ
الرسالہ، ستمبر ۱۹۸۶، صفحہ ۱۷
محض بطور خود یہ نظریہ قائم کر لے کہ مچھلی اور بکری دونوں ایک ہی صنف سے تعلق رکھتے ہیں، اس لیے مچھلی کو بھی دودھ دینا چاہیے جس طرح بکری دودھ دیتی ہے ۔ اور جب کوشش کے باوجود مچھلی دودھ نہ دے تو وہ کہے کہ ہم میڈیکل سائنس کے ذریعہ نئی قسم کی مچھلیاں پیدا کریں گے جو بکری کی مانند دودھ دینے لگیں ۔
فطرت سے جنگ
کسی ڈاکٹر کو ایک روز خیال آجائے کہ منہ کا مقام چہرہ پر نہیں بلکہ پیٹ پر ہونا چاہیے اور اس کے بعد وہ آپریشن کے ذریعہ منہ کو چہرہ سے ہٹا کر پیٹ پر منتقل کرنا شروع کر دے، تو دنیا اس کی بیوقوفی پر ہنسے گی۔ کیوں کہ فطرت نے کسی چیز کا جو مقام متعین کر دیا ہے وہاں سے اس کو ہٹایا نہیں جاسکتا۔ ہماری کامیابی یہ ہے کہ ہر چیز کو اس کے مقام پر رکھ کر معاملہ کریں۔ نہ کہ خود ساختہ نظریہ کے تحت اشیاء کی ترتیب بدل کر ایک نیا نقشہ بنانے کی مہم شروع کر دیں۔
اسی تخئیل پسندی کی ایک مثال عورت کا مسئلہ ہے۔ جدید تہذیب نے زندگی کا نیا نقشہ بنانا شروع کیا تو اس میں اس کا ایک نعرہ یہ تھا کہ عورت اور مرد کے درمیان کامل مساوات ہونی چاہیے ۔ اس خوش نما تخئیل کو وجود میں لانے کے لیے خاندان اور معاشرت کا سارا ڈھانچہ الٹ پلٹ دیا گیا۔ مگر آخر میں جو چیز حاصل ہوئی وہ یہ کہ عورت گھر سے باہر تو آگئی ، مگر عملی زندگی میں وہ مرد کی ہم سر نہ ہو سکی۔ اس کی واحد وجہ یہ تھی کہ یہاں فطرت نے انسانی تخئیل کا ساتھ نہیں دیا۔
ایک روسی سائنس داں انتون نملوف جو خواہش کی حد تک خود بھی عورت اور مرد میں کامل مساوات دیکھنا چاہتا ہے، اس بات کا اعتراف کرتا ہے کہ حیاتیات میں ہماری اس خواہش کے لیے بنیاد موجود نہیں ہے ، یہی وجہ ہے کہ عملاً یہ چیز اب تک حاصل نہ ہو سکی۔
وہ سائنس کے تجربات اور مشاہدات پیش کرتے ہوئے لکھتا ہے :
” آج کل اگر یہ کہا جائے کہ عورت کو نظام تمدن میں محدود حقوق دیئے جائیں تو کم سے کم آدمی اس کی تائید کریں گے ، ہم خود اس تجویز کے سخت مخالف ہیں، مگر ہمیں اپنے نفس کو یہ دھوکا نہ دینا چاہیے کہ مساوات مردوزن کو عملی زندگی میں قائم کرنا کوئی سادہ اور آسان کام ہے۔ دنیا میں کہیں بھی عورت اور مرد کو برابر کہ دینے کی اتنی کوشش نہیں کی گئی ، جتنی سوویت روس میں کی گئی ہے۔ کسی جگہ اس باب میں
‹ Previous page Next page › Contents of September 1986 All issues