شادی نہ کرنا غلطی
الرسالہ، ستمبر ۱۹۸۶، صفحہ ۱۹
کے ساتھ کھڑا کر دینے کا انجام یہ ہوا کہ فواحش کا سیلاب امڈ آیا۔
مذکورہ بالا مصنف لکھتا ہے :
"سیمی بات تو یہ ہے کہ تمام عمال (Workers) میں صنفی انتشار (Sexual anarchy) کے آثار نمایاں ہو چکے ہیں۔ یہ ایک نہایت پر خطر حالت ہے جو سوشلسٹ نظام کو تباہ کرنے کی دھمکی دے رہی ہے۔ ہر ممکن طریقہ سے اس کا مقابلہ کرنا چاہیے۔ کیوں کہ اس محاذ پر جنگ کرنے میں بڑی مشکلات ہیں۔ میں ہزارہا ایسے واقعات کا حوالہ دے سکتا ہوں جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ شہوانی بے قیدی (Sexual licentiousness) نہ صرف نا واقف لوگوں میں بلکہ طبقہ عمال کے نہایت اعلیٰ تعلیم یافتہ اور عقلی حیثیت سے ترقی یافتہ افراد میں بھی پھیل گئی ہے ۔ (۳-۱۰۲) روسی مصنف نے یہ بات پچاس سال پہلے کہی تھی ۔ مگر بعد کے سالوں نے اس کی مزید تصدیق کی ہے۔ اس کے الفاظ آج مزید اضافہ کے ساتھ جدید معاشرہ کے لیے صحیح ہیں وہ کسی اعتبار سے غلط ثابت نہیں ہوئے ہیں۔ جدید انسان نے عورت اور مرد کے قدیم تصور کو دقیا نوسی قرار دیا۔ اور عورت اور مرد کے درمیان صنفی مساوات قائم کرنے کی کوشش کی۔ مگر یہ فطرت (Nature) سے جنگ کرنا تھا۔ یہ حقیقت واقعہ سے ٹکرا نا تھا ، اس کا نتیجہ الٹا ہوا۔ اس کے نتیجہ میں دونوں صنفوں کے درمیان مساوات کا مقصد تو حاصل نہیں ہوا۔ البتہ اس مصنوعی کوشش کا یہ نقصان ہوا کہ معاشرہ کے اندر نئی نئی برائیاں پیدا ہو گئیں ۔
چند مثالیں
مغربی تہذیب نے عورت کے معاملہ میں فطرت سے جو انحراف کیا ، اس کے بڑے عجیب اور مہلک نتائج پیدا ہوئے ۔ ذیل میں چند مثالیں درج کی جاتی ہیں جن سے اس معاملہ کے مختلف پہلوؤں پر روشنی پڑے گی ۔
شادی نہ کرنا غلطی
گریٹا گاربو (Greta Garbo) کسی زمانہ میں ہالی وڈ کی مشہور ترین ایکٹریس تھی ۔ مگر اب بڑھاپے کی عمر کو پہنچنے کے بعد فلمی دنیا میں اس کی کوئی قیمت نہیں۔ اس کے پرانے دوست بھی سب کے سب اس کا ساتھ چھوڑ چکے ہیں۔ ۱۸ ستمبر ۱۹۸۰ کو اس نے اپنی ۷۵ ویں سال گرہ تنہا منائی ۔ گریٹا گاربو کے سوانح نگار نے اس سے
‹ Previous page Next page › Contents of September 1986 All issues