فطرت سے جنگ
الرسالہ، ستمبر ۱۹۸۶، صفحہ ۱۸
اس قدر غیر متعصبانہ اور فیاضانہ قوانین نہیں بنائے گئے۔ مگر اس کے باوجود واقعہ یہ ہے کہ عورت کی پوزیشن خاندان میں بہت کم بدل سکی ہے “ (صفحہ ۷۹)
"اب تک عورت اور مرد کی نامساوات کا تخیل، نہایت گہرا تخیل، نہ صرف ان طبقوں میں جو ذہنی حیثیت سے ادنی درجے کے ہیں، بلکہ اعلیٰ درجہ کے تعلیم یافتہ سوویت طبقوں میں بھی جما ہوا ہے۔ اور خود عورتوں میں اس تخیل کا اتنا گہرا اثر ہے کہ اگر ان کے ساتھ ٹھیک ٹھیک مساوات کا سلوک کیا جائے تو وہ اس کو مرد کے مرتبے سے گرا ہوا سمجھیں گی۔ بلکہ اسے مرد کی کمزوری اور نامردی پر محمول کریں گی۔ اگر ہم اس معاملہ میں کسی سائنس داں، کسی مصنف، کسی طالب علم، کسی تاجر یا کسی صد فیصد کمیونسٹ کے خیالات کا تجسس کریں تو بہت جلد یہ حقیقت منکشف ہو جائے گی کہ عورت کو وہ اپنے برابر کا نہیں سمجھتا۔ اگر ہم زمانہ حال کے کسی ناول کو پڑھیں، خواہ وہ کیسے ہی آزاد خیال مصنف کا لکھا ہوا ہو، یقیناً اس میں ہم کو کہیں نہ کہیں ایسی عبارتیں ضرور ملیں گی جو عورت کے متعلق اس تخیل کی جیتی جاگتی کھا جائیں گی۔ (۹۵-۱۹۴) عورت کو مساوات کا درجہ نہ ملنا کوئی وقتی اور عملی خرابی نہیں بلکہ اس کی وجہ حیاتیات تک جاتی ہے۔ چنانچہ مصنف لکھتا ہے :
"اس کی وجہ یہ ہے کہ یہاں انقلابی اصول ایک نہایت اہم صورت واقعی سے ٹکراتا ہے۔ یعنی اس حقیقت سے کہ حیاتیات (Biology) کے اعتبار سے دونوں صنفوں کے درمیان مساوات نہیں ہے اور دونوں پر یکساں بار نہیں ڈالا گیا ہے “ ہے‘‘۔ 77 Anton Nemilov, The Biological Tragedy of Woman, London, 1932 فطرت کی خلاف ورزی کا نتیجہ یہی نہیں ہوتا کہ وہ چیز عملاً حاصل نہیں ہوتی۔ بلکہ یقینی طور پر اس کی وجہ سے کئی نقصان سے دوچار ہونا پڑتا ہے۔ فطرت نے کسی چیز کو جہاں رکھا ہے وہی اس کی اصل جگہ ہے۔ اور جب کسی چیز کو اس کے واقعی مقام سے ہٹایا جائے تو اس کے نتیجہ میں خرابی کا پیدا ہونا لازمی ہے۔
یہی چیز عورت کے معاملہ میں ہوئی۔ عورت کو مرد کے مساوی بنانے کے لیے گھر سے باہر نکالا گیا۔ اس سے یہ تو نہیں ہوا کہ عورت فی الواقع مرد کے مساوی ہو جاتی۔ البتہ اس کو زندگی کے ہر موڑ پر مردوں
‹ Previous page Next page › Contents of September 1986 All issues