Al-Risala · September 1986 · page 28

میدان عمل سے محرومی

الرسالہ، ستمبر ۱۹۸۶، صفحہ ۲۸

فوٹو لے سکیں ۔ "بی بی " کے بارے میں ایک رپورٹ میں اس کا تاثر بتایا گیا تھا کہ کیمرہ کے سامنے اس نے کبھی سکون محسوس نہیں کیا :

She never really felt at ease in front of the camera. ۳۹ سال کی عمر میں جب کہ وہ تقریباً پچاس کامیاب فلمیں بنا چکی تھی ، اس نے اچانک اپنا کیرئیر ختم کر دیا۔ وہ فلمی دنیا سے بالکل بے تعلق ہو گئی۔ اس نے اپنی شاندار رولس رائٹس کار فروخت کر دی اپنے مکان میں تنہا رہنے لگی جہاں وہ ایک معمولی انسان کی طرح خاموش زندگی گزار سکے :

She sold her Rolls-Royce and went to live alone in her house on the Riviera, "to cease to be considered a beautiful object and become a human being like any other," she said. حقیقت یہ ہے کہ گھر کے باہر کی دنیا میں ہیرو بننا اور ہر طرف شہرت حاصل کرنا عورت کی فطرت کے سراسر خلاف ہے ۔ عورت فطری طور پر خانہ پسند ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ اکثر ایسا ہوتا ہے کہ مصنوعی سید الونس میں شہرت پانے والی عورتیں اپنے کیرئیر کے درمیان میں یا اس کے آخر میں خانہ نشیں ہو جاتی ہیں ۔ وقتی چمک دمک کے بعد بالآخر ان کو جہاں سکون ملتا ہے وہ ان کا گھر ہے نہ کہ ان کا باہر ۔

عورت کے بارہ میں اسلام کا قانون عورت کی اسی فطرت کی رعایت ہے نہ کہ عورت کے اوپر کوئی ظلم ۔ وہ مقام جہاں ایک عورت ناکام تجربہ کے بعد پہنچتی ہے ، اسلام چاہتا ہے کہ وہ اپنے آزاد ارادہ کے تحت خود اپنے انتخاب کے ذریعہ وہاں پہنچے ۔

میدان عمل سے محرومی

مرد ہو یا عورت ہر ایک اپنے عمل کے لحاظ سے قیمت پاتا ہے ۔ عورت کو مرد کے مساوی قرار دے کر جب گھر سے باہر لایا گیا تو اس کی قیمت اس میں تھی کہ وہ ان تمام شعبوں کو سنبھال لے جن کو مرد روایتی طور پر سنبھالے ہوئے تھا ۔ یعنی وہ پائلٹ ، ڈرائیور ، انجینئر ، پروفیسر ، ایڈمنسٹریٹر ، پولیس آفیسر ، فوجی کمانڈر اور وغیرہ وغیرہ تمام حیثیتوں میں بالکل مرد کی طرح کام کرنے لگے ۔ مگر حیاتیاتی اعتبار سے عورت کے اندر یہ صلاحیت نہیں ۔ وہ ان شعبوں کو اس طرح سنبھال نہیں سکتی جس طرح مرد ان کو سنبھالے ہوئے ہے ۔

‹ Previous page Next page › Contents of September 1986 All issues

Printed page