جھوٹی لیڈری
الرسالہ، جنوری ۱۹۸۶، صفحہ ۴۴
جھوٹی لیڈری
صبح اٹھ کر ہر روز جو آوازیں راقم الحروف کے کان میں آتی ہیں ان میں سے ایک آواز اس پھیری والے کی ہے جو روزانہ سڑک سے یہ آواز لگاتا ہوا گزرتا ہے :
کباڑی ۔۔۔ ردی والا ، کباڑی۔ ۔۔ ردی والا
جب میں یہ آواز سنتا ہوں تو اکثر میں یہ سوچنے لگتا ہوں کہ یہ شخص بھی کس قدر حقیقت پسند ہے۔ وہ کباڑی والا ہے تو اپنے کو کباڑی والا ہی بتاتا ہے۔ وہ چاہے تو اپنی زبان سے ” جو ہری “ اور ” سونے چاندی والا “ کی آواز بھی نکال سکتا ہے۔ مگر وہ جانتا ہے کہ وہ کباڑی ہے، جو ہری نہیں ہے۔ اس لئے حقیقت کے بازار میں اس کو صرف کباڑی کی قیمت ملے گی ، اس کو جو ہری کی قیمت نہیں مل سکتی۔ اگر وہ سڑکوں پر جو ہری، جو ہری پکارے تو سارا دن گزر جائے گا اور وہ ایک پیسہ کا کا روبار بھی نہ کر سکے گا۔
یہی تمام کاموں کا معاملہ ہے۔ ہر کام میں آدمی اپنی اصل حیثیت کے مطابق قیمت پاتا ہے۔ مگر لیڈری کا کام اس سے مستثنیٰ ہے۔ لیڈری کی دنیا میں یہ ممکن ہے کہ آپ حقیقتاً کباڑی ہوں اور جو ہری کی آواز لگائیں۔ پھر بھی آپ کو ایسے معتقدین مل جائیں جو آپ کو مفکر اسلام تصور کریں، جو آپ کو نجات دہندہ قوم کا لقب دیدیں۔
لیڈری کی دنیا میں یہ ممکن ہے کہ آدمی کے اندر ایک معمولی اخبار چلانے کی طاقت نہ ہو اور وہ انسانیت بچاؤ کا جھنڈا بلند کرے۔ وہ ایک مدرسہ کا انتظام درست نہ کر سکتا ہو اور ” سنواے اہلِ عالم “ کے عنوان پر تقریر کرے۔ ووٹ دینے والے عوام کے اندر اس کا کوئی مقام نہ ہو۔ اس کے باوجود وہ اسلامی حکومت قائم کرنے کا نعرہ لے کر الیکشن کے میدان میں کود پڑے۔
بائبل میں ” جھوٹے نبی “ کا لفظ آتا ہے۔ اس سے مراد اسی قسم کے جھوٹے لیڈر ہیں ۔ ایسے لوگ ممکن ہے کسی قسم کی وقتی شہرت اور مقبولیت حاصل کر لیں ۔ مگر حقیقت کی نظر میں وہ صرف مجرم ہیں۔ کیونکہ اپنی اصل حیثیت کے اعتبار سے وہ کباڑی تھے مگر انھوں نے اپنے آپ کو جو ہری کے روپ میں پیش کیا۔ انھوں نے قوم کو صرف بے راہ کیا اور نعرہ یہ لگایا کہ وہ قوم کو راستہ دکھانے کے لیے اٹھے ہیں ۔
‹ Previous page Next page › Contents of January 1986 All issues