آخرت کا سوال
الرسالہ، اکتوبر ۱۹۸۶، صفحہ ۸
آخرت کا سوال
خدا نے انسان کو ابدی مخلوق کی حیثیت سے پیدا کیا۔ پھر اس کے عرصہ حیات (Life span) کے تقریباً سو سال کو موجودہ دنیا میں رکھ کر بقیہ ساری عمر کو موت کے بعد آنے والی اگلی دنیا میں ڈال دیا۔ اب بہترین عقل مندی یہ ہے کہ انسان اس آنے والی دائمی زندگی کو سامنے رکھ کر زندگی گزارے۔ اس کی زندگی آخرت رخی (Akhirat oriented) زندگی ہو ۔
ایک مغربی مفکر نے لکھا ہے :
It is a question for us now to consider whether we have any personal relations towards the Supreme Power; whether there exists another world in which we shall be requited according to our actions. Not only is this a grand problem of philosophy; it is of all questions the most practical for us, the one in which our interests are most vitally con- cerned. This life is short, and its pleasures are poor; when we have obtained what we desire it is nearly time to die. If it can be shown that by living in a certain manner, eternal happiness may be obtained, then clearly no one except a fool or a mad man will refuse to live in such a manner (p. 414). Winwood Reade The Martyrdom of Man London, Watts & Co. 1948, pp. 444 ہمارے لیے یہ ایک غور طلب سوال ہے کہ کیا خالق کائنات اور ہمارے درمیان کوئی ذاتی رشتہ ہے ۔ کیا موجودہ دنیا کے علاوہ کوئی اور دنیا ہے جس میں ہم اپنے اعمال کے مطابق بدلہ پائیں گے یہ نہ صرف فلسفہ کا بہت بڑا سوال ہے، یہ خود ہمارے لیے سب سے زیادہ عملی سوال ہے، ایک ایسا سوال جس سے ہمارے مفادات بہت زیادہ وابستہ ہیں ۔ موجودہ زندگی بہت مختصر ہے۔ اس کی خوشیاں نہایت معمولی ہیں۔ جب ہم وہ کچھ حاصل کر لیتے ہیں جو ہم چاہتے ہیں تو ہمارے مرنے کا وقت قریب آچکا ہوتا ہے ۔ اگر یہ واضح ہو سکے کہ ایک خاص طریقہ پر زندگی گزارنے سے دائمی خوشی حاصل ہو سکتی ہے تو بیوقوف یا پاگل کے علاوہ کوئی بھی شخص نہیں ہو گا جو اس طرح زندگی گزارنے سے انکار کرے ۔
آخرت کا مسئلہ کس قدر اہم ہے، مگر انسان کتنی آسانی کے ساتھ اس کو نظر انداز کر دیتا ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of October 1986 All issues