خدا کے نام پر
الرسالہ، اکتوبر ۱۹۸۶، صفحہ ۹
خدا کے نام پر
خدا بڑا ہے ، اور کوئی بڑا یں ۔ بظاہر صد فی صد خیر کی بات ہے ۔ مگر یہ بظاہر خیر کی بات بھی عملاً شر کی بات بن جاتی ہے جب کہ آدھی نے اس کو صرف آدھی شکل میں دریافت کیا ہو۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ خدا بڑا ہے ، اس کے سوا کوئی بڑا نہیں ۔ مگر اس کا دوسرا پہلو یہ ہے کہ انسان چھوٹا ہے ، اس سے زیادہ اور کوئی چھوٹا نہیں ۔ آدمی اگر ان دونوں باتوں کو جانے نہ تو اس کے اندر تواضع کی کیفیت پیدا ہوگی ۔ اور اگر وہ صرف پہلی بات کو جانے اور دوسری بات کو نہ جانے تو اس سے اس کے اندر جو مزاج پیدا ہوگا اسی کا نام سرکشی ہے ۔
شیطان کو معلوم تھا کہ خدا بڑا ہے ، مگر اس کو یہ نہ معلوم تھا کہ میں چھوٹا ہوں۔ چنانچہ وہ ابدی طور پر شر اور فساد کا کارخانہ بن گیا ۔ اسی طرح ہٹلر اس بات کو جانتا تھا کہ خدا بڑا ہے ، مگر وہ اس بات کو نہیں جانتا تھا کہ میں چھوٹا ہوں۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ وہ تاریخ کا سب سے زیادہ سرکش اور مفسد انسان قرار پایا ۔
"خدا بڑا ہے" کہنا ایک خارجی حقیقت کا اقرار کرنا ہے ۔ اور "میں چھوٹا ہوں" کہنا اپنے آپ کو اس خارجی حقیقت کے مطابق ڈھالنا ہے ۔ کچھ لوگ خدا کو ایک عظیم خارجی حقیقت کے طور پر تسلیم کرتے ہیں مگر وہ اپنی ذات کو اس کے مطابق نہیں ڈھالتے ۔ جس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ وہ خدا کے نام پر خود خدا بن جاتے ہیں ۔ وہ لوگوں سے لڑتے ہیں ، حالاں کہ خدا کو بڑا ماننے کا تقاضا تھا کہ ان سے لڑائی کا ہر جذبہ چھن جائے ۔ وہ لوگوں پر زبان درازی کرتے ہیں ، حالاں کہ خدا کی خدائی کا احساس جس کے دل میں پیدا ہو جائے اس کے الفاظ اس سے گم ہو جاتے ہیں ۔ وہ اس قابل نہیں رہتا کہ لوگوں کو اپنی زبان درازی کا نشانہ بنائے ۔
ہر حقیقت اس وقت تک آدمی حقیقت ہے جب تک آدمی اس کے مقابلہ میں خود اپنی حیثیت کو دریافت نہ کرے ۔ خارجی حقیقت کی دریافت اس وقت مکمل ہوتی ہے جب کہ اس کی نسبت سے آدمی اپنے واقعی مقام کو بھی جان لے ۔ جس آدمی کو پہلی بات معلوم ہو ، اور دوسری بات اس کو معلوم نہ ہو ، اس کا سارا رویہ اس دنیا میں غلط ہو کر رہ جائے گا ۔
‹ Previous page Next page › Contents of October 1986 All issues