Al-Risala · October 1986 · page 18

احتساب

الرسالہ، اکتوبر ۱۹۸۶، صفحہ ۱۸

احتساب

دنیا میں سب کم جو چیز پائی جاتی ہے وہ احتساب خویش ہے۔ اور جو چیز دنیا میں سب سے زیادہ پائی جاتی ہے وہ احتساب غیر ہے۔ آج ہر چھوٹا بڑا آدمی دوسروں کے احتساب میں مشغول ہے۔ مگر وہ انسان کہیں نظر نہیں آتا جو اپنا احتساب آپ کر رہا ہو۔ آدمی باطل کلام بولتا ہے مگر اس کو کبھی یہ تڑپ نہیں ہوتی کہ اس نے اپنی زبان سے باطل کلام نکالا ہے۔ آدمی واضح طور پر بے انصافی کرتا ہے مگر اس کو کبھی یہ احساس نہیں ہوتا کہ اس سے بے انصافی کا فعل سرزد ہوا ہے۔ آدمی دوسروں کے ساتھ برا سلوک کرتا ہے مگر اس کو توفیق نہیں ہوتی کہ پیچھے مڑ کر اپنے آپ کو دیکھے۔ لوگ اپنے ذاتی مفاد کے معاملہ میں حساس ہیں مگر وہ حق کے معاملہ میں بے حس ہو گئے ہیں ۔ ان کی انا پر ضرب لگے تو وہ تڑپ اٹھتے ہیں مگر وہ حق و صداقت پر ضرب لگاتے ہیں اور ان کے اندر اس کے خلاف کوئی تڑپ پیدا نہیں ہوتی ۔ لوگوں کے اسی مزاج کا یہ نتیجہ ہے کہ اگر ان کے درمیان کوئی ایسی تحریک اٹھائیے جس کی زد ان کی اپنی ذات پر پڑتی ہو تو ایسی تحریک کو لوگوں کے درمیان کوئی مقبولیت حاصل نہیں ہوگی۔ وہ ایسی تحریک کو اس طرح نظر انداز کر دیں گے جیسے کہ وہ کوئی قابل لحاظ چیز ہی نہیں۔ اس کے برعکس لوگوں کے درمیان ایسی تحریک اٹھائی جائے جس کی زد دوسروں کے اوپر پڑتی ہو تو وہ جوق در جوق اس کو لبیک کہیں گے ۔ دوسروں کو غلط قرار دینا، دوسروں کے خلاف تقریریں کرنا، دوسروں کے خلاف ایجی ٹیشن چلانا، دوسروں کے خلاف ہنگامہ آرائی کرنا لوگوں کا محبوب ترین مشغلہ ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ جن تحریکوں میں اس طرح کی غذا ہو ان کو فوراً مقبولیت مل جاتی ہے۔ اس کے لیڈر فوراً شہرت کا مقام حاصل کر لیتے ہیں ۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ احتساب خویش اگر دین ہے تو احتساب غیر سراسر بے دینی ۔ جو لوگ اس طرح کے لایعنی مشغلوں میں مصروف ہیں وہ بہت جلد دیکھ لیں گے کہ وہ صرف بربادی کی خندق کی طرف سفر کر رہے تھے ، اگرچہ بطور خود انھوں نے سمجھا تھا کہ وہ کامیابی کے چمنستان کی طرف چلے جا رہے ہیں۔

‹ Previous page Next page › Contents of October 1986 All issues

Printed page