معروف و منکر
الرسالہ، اکتوبر ۱۹۸۶، صفحہ ۱۷
معروف و منکر
شریعت میں جو احکام ہیں ان میں سے ہر حکم کے لیے الگ الگ الفاظ ہیں۔ کسی حکم کے لیے صلوٰۃ کا لفظ ہے اور کسی حکم کے لیے صوم کا۔ کسی حکم کے لیے زکوٰۃ کا لفظ آیا ہے اور کسی حکم کے لیے حج کا، وغیرہ۔ اسی طرح ایک حکم وہ ہے جس کے لیے قرآن و حدیث میں الامر بالمعروف و النہی عن المنکر کے الفاظ آئے ہیں۔ یعنی اچھی باتوں کا حکم دینا اور بری باتوں سے روکنا۔ حدیث میں ارشاد ہوا ہے کہ مسلمان کے اوپر لازم ہے کہ وہ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا کام کرے، طاقت ہو تو ہاتھ سے، ہاتھ سے نہ کر سکے تو زبان سے، اور زبان سے نہ کر سکے تو دل سے۔
یہ حکم در اصل مسلمانوں کی باہمی اصلاح کے لیے آیا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ہر مسلمان دوسرے مسلمان کے اوپر نگران بن جائے ۔ ایک مسلمان دوسرے مسلمان کو اس کا حق نہ دے تو قریب کے مسلمان اس پر زور ڈال کر اس کو حق دار کا حق دینے پر مجبور کریں۔ ایک مسلمان ظالمانہ روش اختیار کرے تو اس کے آس پاس جو مسلمان ہیں وہ سب مل کر اس کے پیچھے پڑ جائیں اور اس کو ظلم و سرکشی کا رویہ چھوڑنے پر مجبور کر دیں۔ یہ کام اپنی استطاعت کے بقدر کرنا ہے ۔ ہاتھ سے ممکن ہو تو ہاتھ سے، ورنہ زبان سے، اور نہ زبان سے ممکن نہ ہو تو آخری درجہ یہ ہے کہ دل سے۔
امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کی اسی خاص نوعیت کی بنا پر قرآن میں اس کے لیے مشارکت کے صیغے آئے ہیں، یعنی ایسا صیغہ جس میں آپس میں ایک دوسرے کے اندر کرنے کا مفہوم پایا جاتا ہو۔ مثلاً ائتمار بالمعروف (واتمروا بینکم بمعروف ، الطلاق ٦) اور تناہی عن المنکر (کانوا لا یتناہون عن المنکر فعلوه ، المائدہ ٧٩)
مسلمانوں کی اصلاح معاشرہ کے لیے یہی اصل کام ہے جو مسلمانوں کو کرنا ہے۔ اس حکم کا مطلب یہ کہ مسلمان کے اندر اپنے بھائی کی مدد کرنے کا جذبہ موجود ہو۔ جہاں کوئی مسلمان حق کے خلاف چلتا ہوا نظر آئے فوراً اس علاقے کے مسلمان ایسے مسلمان سے ملیں، وہ ظالم کے خلاف مظلوم کی حمایت کریں ۔ وہ ہر شخص کے معاملے میں دخل دے کر اس کو حق پر قائم رہنے اور ناحق کو چھوڑنے پر مجبور کر دیں۔ یہ حقیقتاً ایک سماجی کام ہے نہ کہ کوئی حکومتی کام۔
‹ Previous page Next page › Contents of October 1986 All issues