Al-Risala · October 1986 · page 21

برانام

الرسالہ، اکتوبر ۱۹۸۶، صفحہ ۲۱

برانام

يايها الذين آمنوا لا يسخر قوم من قوم عسى أن يكونوا خيرا منهم ولا نساء من نساء عسى أن يكن خيرا منهن ولا تلمزوا انفسكم ولا تنابزوا بالالقاب بئس الاسم الفسوق بعد الايمان ومن لم يتب فأولئك هم الظالمون (الحجرات (1)

ولا تنابزوا بالالقاب کے ذیلی اللہ تعالیار دینا اے لوگو جو ایمان لائے ہو، نہ مرد دوسرے مردوں کو مذاق اڑائیں ، شاید کہ وہ ان سے بہتر ہوں ۔ اور نہ عورتیں دوسری عورتوں کا مذاق اڑائیں، شاید کہ وہ ان سے بہتر ہوں ۔ اور نہ آپس میں ایک دوسرے کو عیب لگاؤ ، اور نہ ایک دوسرے کو برا لقب دو ۔ ایمان کے بعد گناہ کا نام لگنا برا ہے ۔ اور جو شخص توبہ نہ کرے تو وہی لوگ ظالم ہیں ۔ ہم تفسیر طبری کے الفاظ نقل کرتے ہیں : ولا تنابزوا بالألقاب) یعنی ان یدعى الرجل. باسم يكرهه أوصفة (بئس الاسم الفسوق ؟

ان الفاظ کے ذریعہ اللہ تعالیٰ نے اس سے روکا ہے کہ کسی آدمی کو ایسے نام سے پکارا جائے جس کو وہ بعد الایمان من سخر من المومنین و نبزهم بالالقاب و خالف امر الله عزوجل فقد استحق اثم الفسق (طبری)

ایک شخص سے آپ کو اختلاف ہو جائے تو ایک پسند نہ کرے یا ایسی صفت سے جو اس کو پسند نہ ہو۔ جو مسلمان کسی شخص کا مذاق اڑائے اور اس کو بر القصب دے اور اللہ کے حکم کی خلاف ورزی کرے تو وہ فسق کے گناہ کا مستحق ہو گیا ۔ صورت یہ ہے کہ آپ اس کو اس کے اصل نام سے ایک شخص سے آپ کا اختلاف ہو جائے توایک صورت یہ ہے کہ آپ اس کو اس کے اصل نام سے پکاریں اور اس کی اس صفت پر اظہار خیال کریں جو اس کی معروف صفت ہے ، اگر آپ ایسا کریں تو ایسا کرنا آپ کے لیے جائز ہے ۔ اس کے برعکس اگر آپ اس کو ایک نیا نام دیں ، مثلاً عبد الوہاب کے بجائے اس کو وہابی کہیں تو یہ ایک غیر اسلامی فعل ہے ۔ اسی طرح اگر آپ اس کے مسلک کو اس کے ظاہر کیے ہوئے لفظوں میں بیان کرنے کے بجائے کچھ دوسرے الفاظ میں بیان کریں ، مثلاً یہ کہیں کہ یہ کافروں کا ایجنٹ ہے ، تو یہ سراسر فاسقانہ حرکت ہے اور اللہ تعالیٰ کے غضب کو بھڑکانے والی ہے ۔

‹ Previous page Next page › Contents of October 1986 All issues

Printed page