خواب پورا ہو گیا
الرسالہ، اکتوبر ۱۹۸۶، صفحہ ۲۶
۳ بجے اٹھ کر میں تذکیر القرآن (سورۃ الناس) لکھنے بیٹھ گیا۔ اس کی آخری سطریں عین اس وقت پوری ہوئیں جب کہ نظام الدین کی مسجد سے فجر کی اذان کی آواز آرہی تھی ۔
تذکیر القرآن کی تکمیل مجھے ایک خدائی معاملہ نظر آتی ہے۔ یہ میرے لیے اتنا زیادہ مشکل کام تھا کہ اس کا ہر صفحہ لکھنے کے بعد مجھے ایسا محسوس ہوتا تھا کہ اب میں اس کا اگلا صفحہ نہ لکھ سکوں گا۔ یکم فروری ۱۹۶۳ء کو جب کہ میں اعظم گڑھ میں تھا، میں نے ایک خواب دیکھا تھا۔ اٹھا تو پورا خواب یاد نہیں رہ گیا۔ صرف خواب کا ایک جزو "۱۹ جولائی " ذہن میں باقی تھا۔ بیدار ی کے بعد مجھے یاد نہ رہا کہ یہ کس بات کی تاریخ ہے۔ صرف اتنا یاد تھا کہ میں نے خواب میں ۱۹ جولائی کی تاریخ دیکھی ہے۔ ۱۹۶۳ء کے اس خواب کے بعد ہر سال میں ۱۹ جولائی کا انتظار کرتا رہا ہوں ۔ مگر ہر سال یہی ہوا کہ جب ۱۹ جولائی آئی تو اس روز کوئی خاص نمایاں واقعہ پیش نہیں آیا۔ اسی طرح ۲۳ سال بیت گئے۔ ۱۹۸۶ء کی ۱۹ جولائی وہ پہلی تاریخ ہے جب کہ ایک ایسا واقعہ پیش آیا جو شاید میری زندگی کا سب سے زیادہ قابل ذکر واقعہ ہے۔ اور وہ یہ کہ عین اسی تاریخ کو میں نے تذکیر القرآن کا آخری صفحہ لکھا۔
" ۱۹ جولائی " کو تذکیر القرآن کا مکمل ہونا بڑا عجیب واقعہ ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ کام تمام تر خدا کی مدد سے ہوا۔ اور عین خدا کے منصوبے کے تحت اپنی تکمیل کو پہنچا۔ یہ ایک خدائی منصوبہ تھا اور خدا ہی نے اپنے خصوصی اہتمام سے اس کو پورا کیا۔
تذکیر القرآن ایسے حالات میں مکمل ہوئی جب کہ میرے حالات بے حد خراب ہو چکے تھے ۔ حتی کہ کچھ لوگ مجھے ہلاک کرنے کے در پے تھے۔ آج جب میں نے تذکیر القرآن کو مکمل کیا تو میرے دل نے کہا جو کام مجھے کرنا تھا وہ کام آج پورا ہو گیا ۔ اب انشاء اللہ خدا کے دین پر کوئی شخص پر دہ نہ ڈال سکے گا، یہاں تک کہ قیامت آجائے ۔ "
‹ Previous page Next page › Contents of October 1986 All issues