خواب پورا ہو گیا
الرسالہ، اکتوبر ۱۹۸۶، صفحہ ۲۸
طور پر بھی ان بہت سے لوگوں کے بارے میں معلومات حاصل ہوئی ہیں، جو جدید سہولتوں سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔ مگر مجھے یاد نہیں کہ اب تک میں کسی ایسے شخص سے واقف ہوا ہوں، جو حقیقی شعوری معرفت کے تحت ان چیزوں کو خدا کی نعمت سمجھتا ہو۔ رسمی طور پر الحمد للہ یا اس کے ہم معنی لفظ کہنے والے تو بہت ہیں ۔ مگر اس انسان سے ابھی تک میں واقف نہ ہو سکا، جو ان چیزوں کو دیکھ کر حمد خداوندی کے سمندر میں غرق ہو جائے ۔ جو ان سے گزر کر اس طرح نکلے گویا وہ انعامات الہی کی بارش سے نہا کر نکلا ہے ۔
ڈیڑھ گھنٹہ کی پرواز کے بعد جہاز جب بمبئی کے قریب پہنچا تو جھٹکے کے ساتھ وہ اس طرح اوپر سے نیچے آیا جیسے کوئی چیز اچانک بلندی سے گر پڑے ۔ اس وقت زندگی اور موت ایک دوسرے سے قریب نظر آئے ۔ انسان ہر لمحہ موت سے قریب ہے ۔ تاہم خدا مختلف مواقع پر غیر معمولی جھٹکے دیتا رہتا ہے تاکہ جو لوگ شعور کی نگاہ سے نہ دیکھ سکتے ہوں وہ تجربہ کی نگاہ سے دیکھ لیں ۔ جو لوگ سوچ کر حقیقتوں کو نہ جان سکتے ہوں وہ ان میں پڑ کر حقیقتوں کو جان لیں ۔ بمبئی ہندوستان کی تجارتی راجدھانی ہے ۔ وہ دنیا کا ساتواں سب سے بڑا شہر ہے ۔ اس کی موجودہ آبادی ایک کروڑ کے قریب ہے ۔ وہ ہندوستان کے قدیم ترین ساحلی شہروں میں سے ہے ۔ یہاں مختلف حکومتیں رہی ہیں ۔ ۱۴۱۳ء میں وہ گجرات کی مسلم سلطنت کے تحت آیا۔ سولھویں صدی کے آغاز میں پرتگالیوں نے اس پر قبضہ کیا ۔ ۱۶۶۱ میں ایک معاہدہ کے تحت وہ برطانیہ کو مل گیا جس کا سلسلہ ۱۹۴۷ میں ختم ہوا ۔
۱۸۵۰ میں یہاں سب سے پہلی کپڑے کی مل قائم ہوئی ۔ بہت جلد بمبئی روئی کا ایک بڑا مارکیٹ بن گیا ۔ ۶۵-۱۸۶۱ میں امریکہ میں زبردست خانہ جنگی ہوئی ۔ اس کے نتیجہ میں امریکہ کی روئی کا برطانیہ پہنچنا بند ہو گیا ۔ اب انگلینڈ کے کارخانوں نے اپنی ضرورت کی روئی بمبئی سے لینا شروع کیا ۔ اس کے نتیجہ میں بمبئی کا روئی کا کاروبار بہت بڑھ گیا ۔ ۱۸۶۹ میں نہر سویز کا بحری راستہ کھلا تو یورپ اور بمبئی کے درمیان تجارت میں مزید ترقی ہوئی ۔
بمبئی پورے معنوں میں میٹروپولیٹن شہر ہے ۔ یہاں ہر مذہب کے لوگ موجود ہیں ۔ تقریباً آدھی آبادی ہندوؤں پر مشتمل ہے ۔ بقیہ میں مسلم، عیسائی، بدھ جین، سکھ ، پارسی اور یہودی
‹ Previous page Next page › Contents of October 1986 All issues