خواب پورا ہو گیا
الرسالہ، اکتوبر ۱۹۸۶، صفحہ ۳۰
مجھے ایسا لگتا ہے کہ یہ خواب بُشریٰ من اللہ ہے اور اس کی تعبیر نہایت با معنی ہے۔ یہ خواب ان معاندانہ کارروائیوں کی تمثیل ہے جو میرے ساتھ پہلے کی گئیں اور اب بھی کی جارہتی ہیں۔ اس خواب میں مجھے اپنے مشن کے سلسلہ میں ماضی کی تصویر اور مستقبل کی بشارت نظر آتی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جو لوگ میرے دینی اور تعمیری مشن کو ”سہانی“ دینا چاہتے ہیں وہ ماضی میں بھی ناکام ہوئے اور مستقبل میں وہ قطعی ناکام رہیں گے۔ ان شاء اللہ العزیز۔ ۲۳ اگست کو صبح ۱۰ بجے کانفرنس شروع ہوئی۔ کانفرنس کی کارروائی لطیفی ہال (صا بو صدیق انجینئرنگ کالج) میں ہوئی۔ میں وہاں پہونچا تو دیکھا کہ اندر باہر ہر طرف وردی پوش لوگ کھڑے ہوئے ہیں۔ حتیٰ کہ چھتوں پر بھی مسلح پولیس کے لوگ دکھائی دے رہے تھے۔ اس کانفرنس کا افتتاح چیف منسٹر مہاراشٹر ایس بی چوہان کرنے والے تھے۔ اس کے علاوہ کئی مرکزی اور ریاستی وزیر ڈائس پر موجود تھے ۔ سیکورٹی کا غیر معمولی انتظام اس لیے تھا۔ ہمارے لیڈر انگریزوں کے دور میں ۱۹۴۷ء سے پہلے یہ کہتے تھے کہ ” سیکورٹی “ بیرونی حکمرانوں کی ضرورت ہے۔ آزادی کے بعد جب عوام کے نمائندے ملک کے حکمراں ہوں گے تو ان کو پولیس اور فوج کی حفاظت کی ضرورت نہ ہوگی۔ اس لیے ملک اس قسم کے غیر ضروری اخراجات سے بچ جائے گا۔ مگر آج سیکورٹی پر پہلے سے کئی گنا زیادہ خرچ ہو رہا ہے۔ ایک پولیس افسر نے کہا: ” آج کل تو سمجھ لیجئے کہ کرائم ڈینٹکشن کا کام بند ہے، ساری طاقت بس سیکورٹی پر لگ رہی ہے“ کانفرنس میں وزیر اعظم راجیو گاندھی کا پیغام پڑھا گیا۔ انھوں نے اپنے پیغام میں کہا تھا کہ کمیونلزم (فرقہ پرستی) ہمارے ملک کے لیے سب سے بڑا خطرہ (Greatest danger) ہے۔ مختلف حضرات نے پر جوش تقریریں کیں۔ ایک صاحب نے کہا کہ اسی بمبئی سے اسی اگست کے مہینے میں ہم نے انڈیا چھوڑو (Quit India) کا نعرہ دیا تھا۔ اب اسی بمبئی سے ہم کو فرقہ واریت انڈیا چھوڑے (Communalism Quit India) کا نعرہ دینا ہے۔ اسی طرح دوسرے حضرات نے فرقہ پرستی اور تشدد کو سختی سے کنڈم کیا۔ اور کہا کہ موجودہ صورت حالاگر اسی طرح باقی رہی ہے تو ملک تباہ ہو جائے گا۔
یہ باتیں کس حد تک سنجیدہ ذہن سے کہی گئیں، اس سے قطع نظر اہم بات یہ ہے کہ
‹ Previous page Next page › Contents of October 1986 All issues