خواب پورا ہو گیا
الرسالہ، اکتوبر ۱۹۸۶، صفحہ ۳۲
آج ہم ایک ایسے دور میں ہیں جب کہ فرقہ واریت ، تشدد ، امتیازی سلوک مسلّمہ طور پر بری چیزیں بن چکی ہیں ۔ آج کوئی ان چیزوں کا وکیل نہیں ۔ جب کہ ماضی میں معاملہ اس سے مختلف تھا ۔ اگر ہم حکمت اور برداشت سے کام لیں تو یقینی طور پر ہم اس ملک میں باعزت زندگی حاصل کر سکتے ہیں ۔ کانفرنس میں میری دو تقریریں ہوئیں ۔ ایک کانفرنس کے درمیان ۔ اور دوسری کانفرنس کے آخر میں ۔ کانفرنس کے دوران ہر آدمی کو پندرہ منٹ دیا گیا ۔ مجھے بھی پندرہ منٹ کا موقع ملا۔ مگر اس موضوع پر میرے خیالات سننے کے لیے شام کو 4 بجے اسی ہال میں ایک خصوصی نشست رکھی گئی۔ یہ ایک گھنٹہ کی نشست تھی اور میں اس میں تنہا مقرر تھا۔ میں نے فرقہ واریت کے مسئلہ پر تفصیل کے ساتھ اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ عام طور پر لوگوں نے اتفاق اور پسندیدگی کا اظہار کیا۔ سامعین میں ہندو اور مسلم دونوں صاحبان بڑی تعداد میں موجود تھے ۔
کانفرنس کی زیادہ تر کارروائی انگریزی میں ہوئی ۔ صرف چند تقریریں اردو میں ہوئیں ۔ کانفرنس میں ڈائس پر میری کرسی سے ملی ہوئی کرسی پر ایک مرکزی وزیر بیٹھے ہوئے تھے ۔ گفتگو کے دوران معلوم ہوا کہ وہ الرسالہ کے مستقل قاری ہیں ۔ انھوں نے بتایا کہ ان کے گھر میں بھی الرسالہ پڑھا جاتا ہے ۔ اسی طرح یہاں اور بہت سے لوگ ملے جن کے بارہ میں میرا گمان نہیں تھا کہ وہ الرسالہ سے باخبر ہوں گے ۔ مگر گفتگو کے بعد معلوم ہوا کہ وہ الرسالہ ( اردو یا انگریزی ) کے قاری ہیں ۔ بلکہ ان میں ایسے بھی تھے جنھوں نے کہا کہ " ہم تو الرسالہ کے عاشق ہیں " ۔ اللہ تعالیٰ نے الرسالہ کو عجیب مقبولیت عطا فرمائی ہے ۔ وہ ایسی ایسی جگہوں پر پہونچ رہا ہے جہاں ہمارا گمان بھی نہیں جا سکتا تھا۔
کانفرنس کے درمیان پندرہ منٹ کی تقریر میں میں نے کہا کہ اگر مجھے جدید ہندوستان کی تاریخ لکھنی ہو اور اس میں یہ بتانا ہو کہ جدید ہندوستان کا سب سے انوکھا واقعہ کیا ہے ، تو میں کہوں گا کہ یہاں کا سب سے زیادہ انوکھا واقعہ یہ ہے کہ جس ملک نے عدم تشدد کے ذریعہ آزادی حاصل کی وہ آزادی کے فوراً بعد تشدد کے راستہ پر چل پڑا ۔
میں نے کہا کہ ہندوستان میں آزادی کی تاریخ ۱۸۵۷ء سے شروع ہوتی ہے ۔ ۱۹۱۹ء میں مہاتما گاندھی کے سیاست میں داخلہ تک یہ تحریک متشددانہ طریقہ پر چلتی رہی ۔ مگر اسے کامیابی نہ
‹ Previous page Next page › Contents of October 1986 All issues