خواب پورا ہو گیا
الرسالہ، اکتوبر ۱۹۸۶، صفحہ ۳۳
ہو سکی۔ گاندھی جی ہندوستان کی سیاست میں داخل ہوئے تو انھوں نے آزادی کی تحریک کو عدم تشدد کے طریقہ پر چلانے کا فیصلہ کیا۔ اس زمانہ کا ایک دلچسپ لطیفہ ہے۔ جب مہاتما گاندھی نے تشدد کا ہتھیار ترک کر کے عدم تشدد کا طریقہ اختیار کیا تو ہندوستان کے ایک انگریز کلکٹر نے اپنے سیکریٹری کو تار دیا :
Kindly wire instructions how to kill a tiger non-violently. براہِ کرم بذریعہ تار مطلع فرمائیں کہ ایک شیر کو غیر متشددانہ طریقہ پر کیسے ہلاک کیا جائے۔ حقیقت یہ ہے کہ مہاتما گاندھی نے تشدد کو ترک کر کے انگریز سے تشدد کا جواز چھین لیا۔ اس سے پہلے انگریز کا مسئلہ آسان تھا۔ وہ تشدد کے جواب میں تشدد کرتا تھا۔ مگر اب اس کی سمجھ میں نہیں آتا تھا کہ عدم تشدد کے جواب میں کیوں کر تشدد کیا جائے۔ چنانچہ اسے ملک کو چھوڑ دینا پڑا۔ میں نے کہا کہ ملک کی یہ تاریخ بتاتی ہے کہ عدم تشدد کی طاقت تشدد سے زیادہ ہے۔ یہی موجودہ فرقہ واریت کا حل ہے۔ ہم کو چاہیے کہ سارے ملک میں یہ شعور بیدار کریں۔ جس دن لوگ اس راز کو جان لیں گے اسی دن تشدد بھی اس ملک سے ختم ہو جائے گا۔ نئی نسل کو ہندوستان کی قدیم تاریخ کا یہ سبق یاد دلانا، یہی اس مسئلہ کا سب سے زیادہ کامیاب حل ہے۔ میں نے کہا کہ اس وقت ہندوستان میں اسی قسم کی ایک تحریک کی ضرورت ہے جس کو جاپان نے برعکس عمل (Reverse course) کا نام دیا ہے۔ جاپان دوسری جنگِ عظیم تک تشدد کے طریقہ پر چل رہا تھا۔ جنگ میں شکست کے بعد اس نے اپنے رخ کو بدل کر غیر متشددانہ راستہ میں آگے بڑھنا شروع کر دیا۔ یہاں تک کہ ہم سال میں ملک کی تاریخ بدل گئی۔ چارلس ڈیگال نے یہی ریورس کورس کا طریقہ فرانس میں اختیار کیا۔ فرانس اپنے افریقہ کے مقبوضات میں آزادی کی تحریک کو تشدد سے دبا رہا تھا۔ ڈیگال اقتدار میں آئے تو انھوں نے محسوس کیا کہ افریقہ میں آزادی کی تحریک کو دبانے میں فرانس اتنی زیادہ طاقت خرچ کر رہا ہے کہ وہ نیو کلیر سائنس میں پیچھے ہو گیا ہے۔ ڈیگال نے یک طرفہ طور پر اپنے افریقی مقبوضات کو آزاد کر دیا۔ اس کا نقد نتیجہ اس کو یہ ملا کہ فرانس نے دوبارہ یورپ میں نمبر ایک طاقت کی حیثیت حاصل کرلی۔ مہاتما گاندھی نے اسی ریورس کورس کو ہندوستان کے حالات کے اعتبار سے
‹ Previous page Next page › Contents of October 1986 All issues