ہم کو دوسروں کی غلطی کو سنبھالنا پڑتا ہے
الرسالہ، اکتوبر ۱۹۸۶، صفحہ ۴۶
پاکستان میں فضلی سنز والوں اور محمد موسیٰ صاحب کی طرف سے چھاپے گیے آپ کی کتب کا مطالعہ کیا۔ بس مطالعہ کیا کیا، کتا بیں پڑھنے کے بعد میں دیوانہ ہو گیا ہوں۔ میں نے اس سے پہلے بھی کئی علماء کی لکھی ہوئی کتابوں کا مطالعہ کیا ہے لیکن جو بات آپ کے لٹریچر پڑھنے کے بعد وں میں پیدا ہوئی ہے اور روشنی نمودار ہوئی ہے وہ مجھے کہیں اور نہیں ملی۔ آپ کی تحریر دل نے میری نیند حرام کر دی ہے اب میں نے آپ کے پاکستان میں موجود تمام کتب خرید کر پڑھ لیے ہیں۔ خاص طور پر الرسالة اردو کبھی کبھی حافظ موسیٰ صاحب سے لے کر پڑھتا ہوں ۔ ابھی انگریزی میں الرسالہ کی ایک کاپی حیدر آباد سندھ سے محترم عبد الہادی صاحب سے حاصل کی اور ایک دم اسے پڑھ لیا۔ بس افسوس اس بات کا ہوا کہ آپ جیسے عظیم آدمی سے تعارف اتنی دیر سے کیوں ہوا۔ کاش آپ پاکستان میں ہوتے ـــــ کاش ہم آپ سے پہلے واقف ہوتے۔ سچ پوچھیں تو اب تک ہم قومی اسلام سے وابستہ تھے۔ آپ کی تحریروں کے پڑھنے سے ہم خدا کے دینِ اسلام سے وابستہ ہو گئے ہیں۔ میری ایک گذارش ہے کہ الرسالة انگریزی کے اور اردو کے پورے سال کے پرانے سیٹ اگر آپ کے پاس ہوں تو برائے مہربانی میں خریدنا چاہتا ہوں اس کے لیے آپ مجھے طریقہ کار بتا دیں۔ اور انگریزی میں قرآن کی تفسیر اگر تیار ہو گئی ہو تو وہ بھی مجھے خریدنی ہے ، Agha Noor Mohammad Pathan, C-163, Block 10, F.B. Area, Karachi ۱۲۔ الرسالہ کے ایک قاری لکھتے ہیں: الرسالہ میں پابندی سے پڑھتا ہوں اور پڑھاتا ہوں ۔ اگر میں نے الرسالہ نہ پڑھا ہو تا تو میں بھی کسی نہ کسی طور پر گم راہی میں مبتلا رہتا۔ حتیٰ کہ یہ بھی نہ سمجھ پاتا کہ شرک کیا ہے۔ الرسالہ ہندی میں نہیں ہے۔ اس لیے چند ہندوؤں کو اردو الرسالہ پڑھ کر سنایا کرتا ہوں جن سے میری دوستی ہے۔ وہ لوگ بہت پسند کرتے ہیں اور تڑپتے ہیں کہ کاش وہ ہندی میں ہوتا۔ ہندوؤں کے کانوں نے کبھی ایسی اسلامی دعوت کو نہیں سنا ہے جس میں ان کے لیے نفرت کے علاوہ اور کچھ ہو، اس لیے ان کو زیادہ دل چسپی ہے جو زیادہ پڑھے لکھے ہیں۔ ممکن ہے کہ آئندہ اللہ تعالیٰ انھیں لوگوں سے اپنے دین کا کام لے (۱۳ جون ۱۹۸۶)
‹ Previous page Next page › Contents of October 1986 All issues