دعا
الرسالہ، نومبر ۱۹۸۶، صفحہ ۲
دعا
اللَّهُمَّ انِّيْ اعُوْذُ بِكَ مِنْ الْفَقْرِ وَالْقِلَّةِ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اے اللہ، وَالذِّلَّةِ وَاعُوْذُ بِكَ مِنْ اَنْ اَظْلِمَ میں تجھ سے معافی مانگتا ہوں محتاجی سے اور کمی اَوْ اُظْلَمَ ۔ سے اور ذلت سے۔ اور میں تجھ سے معافی مانگتا (نسائی) ہوں اس سے کہ میں ظلم کروں یا مجھ پر ظلم کیا جائے۔
دعا آدمی کی تڑپ کا اظہار ہے۔ دعایہ ہے کہ آدمی کسی چیز کے لیے بے پناہ خواہشمند ہو، وہ اپنا پورا وجود اس کے لیے لگائے ہوئے ہو۔ اور پھر اسی کو وہ اپنے رب سے بھی مانگے۔ جب آدمی اپنے آپ کو ہمہ تن کسی چیز میں لگا دے تو اس کے بعد فطری طور پر ایسا ہوتا ہے کہ اسی کا وہ چرچا کرتا ہے، اسی کے لیے دعائیں اس کی زبان سے جاری ہونے لگتی ہیں۔
حقیقت یہ ہے کہ دعا سنجیدگی کی آخری حد پر جاکر نکلتی ہے ۔ اب جو شخص حقیقی معنوں میں محتاجی سے بچنا چاہتا ہو وہ کبھی ایسا نہیں کرے گا کہ خود ایسا عمل کرے جو اس کو محتاجی کی طرف لے جانے والا ہو۔ جو شخص ناداری کو ایک نازک امتحان سمجھتا ہو وہ خود اپنے ہاتھوں اپنے آپ کو نادار بنانے والا عمل نہیں کرے گا۔ جو شخص ذلت سے ڈرتا ہو وہ کبھی ایسا اقدام نہیں کرے گا جس کا نتیجہ یہ ہو کہ وہ ذلت کی حالت میں جا پڑے۔ جو آدمی اپنے آپ کو ظالم کے خانہ میں نہ دیکھنا چاہتا ہو وہ کبھی خود سے ظالمانہ کارروائی نہیں کرے گا۔ جو شخص اپنے آپ کو مظلومی کی حالت میں دیکھنا نہ چاہے وہ ایسے معاملہ میں کبھی نہیں کود سکتا جو نتیجہ اس کو مظلومی کی حالت میں پہنچا دینے والا ہو ۔
جو شخص اپنی دعا میں سنجیدہ ہو وہ کبھی ایسا نہیں کر سکتا کہ جس چیز سے بچنے کے لیے وہ خدا سے دعا کرے، دعا کے بعد وہ خود اسی چیز میں ملوث ہو جائے۔ خدا سے وہ مشرق کی سمت میں سفر کی توفیق مانگے اور دعا سے فارغ ہوتے ہی اپنی سواری مغرب کی سمت میں دوڑا دے۔
‹ Previous page Next page › Contents of November 1986 All issues