Al-Risala · November 1986 · page 3

دعوت کی اہمیت

الرسالہ، نومبر ۱۹۸۶، صفحہ ۳

دعوت کی اہمیت

وان احد من المشركين استجارك اور اگر مشرکین میں سے کوئی تم سے پناہ مانگے فاجره حتى يسمع كلام الله ثم ابلغه تو اس کو پناہ دو یہاں تک کہ وہ اللہ کا مامنه ذلك بانهم قوم لا يعلمون کلام سن لے۔ پھر اس کو اس کی امن کی جگہ پر (التوبة) پہنچا دو۔ یہ اس لیے کہ وہ لوگ علم نہیں رکھتے۔

عرب کے مشرکین جن سے آخری درجہ میں حالت جنگ قائم ہو چکی ہے، ان کے بارہ میں یہاں حکم دیا گیا کہ اگر ان میں سے کوئی شخص تمہارے پاس آئے اور اسلام کی بابت جاننا چاہے تو اس کو اپنی حفاظت میں رکھ کر موقع دو کہ وہ اسلام کو سمجھے۔ نہ دشمنی کی وجہ سے اس کو قتل کرو اور نہ جاسوس سمجھ کر اس کو سمجھا دو۔ وہ پرسکون طور پر تمہارے درمیان رہے اور اسلام کی تعلیمات کو سمجھے۔ اس آیت کی تشریح کرتے ہوئے مفسر ابن کثیر لکھتے ہیں :

(ذالك بانهم قوم لا يعلمون) ای انما شرعنا (اس لیے کہ وہ علم نہیں رکھتے) یعنی اس قسم امان مثل هؤلاء ليعلموا دين الله وتقشتر کے لوگوں کے لیے امان کا طریقہ ہم نے اس لیے دعوة الله في عباده مقرر کیا تاکہ وہ اللہ کے دین کو جانیں اور اللہ (تفسیر ابن کثیر، الجزء الثانی، صفحه ، ۳۳) کی دعوت اس کے بندوں میں پھیلے۔ اس سورہ میں ایک طرف مشرکین سے برأت کا اعلان ہے اور ان کے قتل کا حکم ہے۔ گویا ان کی دشمنی اس آخری درجہ پر پہنچ چکی ہے جب کہ برداشت کی حد ختم ہو جاتی ہے۔ مگر اس وقت بھی یہ حکم دیا جارہا ہے کہ اگر ان میں کا ایک شخص اسلام کی تحقیق کرنا چاہے تو اس کو تحقیق کا پورا موقع دیا جائے ۔ ایک شخص کے دل میں اگر قبول حق کا کوئی جذبہ ہے تو اس جذبہ کو بروئے کار آنے کا موقع ملنا چاہیے ۔ شدت کے باوجود دزمی، عضر کے با وجود انصاف کی یہی صلاحیت ہے جو کسی شخص کو خدا کے دین کا داعی بناتی ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of November 1986 All issues

Printed page