ریاضیاتی دنیا
الرسالہ، نومبر ۱۹۸۶، صفحہ ۹
بیکٹیریا کی طرح انسان کے جسم کے لیے بھی نقصان دہ ثابت ہوتی ہیں۔ مکھی، مچھر، دیمک اور دوسرے کیڑوں کو ختم کرنے کے لیے ڈی ڈی ٹی چھڑکا جاتا ہے۔ اسی سے مذکورہ کیڑے بھاگتے ہیں یا مر جاتے ہیں۔ مگر اس کے ساتھ فضا میں ڈی ڈی ٹی کے اجزاء شامل ہو جاتے ہیں۔ انسان سائنس کے ذریعے ان کو اپنے اندر داخل کر لیتا ہے اور پھر طرح طرح کے امراض کا شکار ہوتا ہے۔ پھل اور زرعی پیداوار میں مضر کیڑے لگتے ہیں جن سے پیداوار بہت کم ہو جاتی ہے۔ اس کے لیے کیڑے مار دوائیں بنائی گئی ہیں۔ ان دواؤں کے استعمال سے باغوں اور کھیتوں کی پیداوار میں قابل لحاظ اضافہ ہوا ہے مگر یہاں بھی وہی صورت ہے کہ ایک طرف ان کیڑے مار دواؤں سے فضا خراب ہوتی ہے، دوسری طرف خود پیداوار میں مضر کیمیائی مادے شامل ہو جاتے ہیں اور کھانے کے ساتھ انسان کے اندر داخل ہو کر نقصان کا سبب بنتے ہیں۔
ہندوستان میں ہر سال تقریباً چالیس ہزار پونڈ کیمیکل دوائیں زرعی کھیتوں میں چھڑکی جاتی ہیں۔ اس کے نتیجہ میں عوام کی صحت کا معیار برابر گر رہا ہے ۔ ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کی رپورٹ (۱۹۸۳) میں بتایا گیا ہے کہ تیسری دنیا کے ملکوں میں زرعی کیڑوں کو مارنے کے لیے جو کیمیائی دوائیں استعمال ہوتی ہیں ان کے زہریلے اثرات سے ہر سال تقریباً پچاس ہزار آدمی بیمار پڑتے ہیں اور ان میں سے تقریباً پانچ ہزار آدمی مر جاتے ہیں۔
انسانی سائنس ابھی اس سائنس تک بھی نہیں پہنچی جس کا مظاہرہ قدرت کے اس معجزہ کی سطح پر ہو رہا ہے جس کو نیم کا درخت کہتے ہیں۔ اس کے باوجود بہت سے لوگ یہ فرض کیے ہوئے ہیں کہ اس دنیا کا کوئی خالق و مالک نہیں، اس دنیا کو چلانے والا کوئی ذہن نہیں۔ ”ڈی ڈی ٹی“ کا ایک پیکٹ ہو تو اس کو دیکھ کر کوئی شخص یہ نہیں کہے گا کہ یہ پیکٹ اپنے آپ بن گیا ہے۔ ہر آدمی اس کو ذہن کی تخلیق قرار دے گا۔ مگر ڈی ڈی ٹی کی نوعیت کی اس سے زیادہ اعلیٰ پیداوار کو دیکھ کر آدمی یہ کہہ دیتا ہے کہ وہ اپنے آپ وجود میں آگئی ہے۔ نیم کا درخت بلاشبہ ڈی ڈی ٹی سے بہت زیادہ اعلیٰ پیداوار ہے۔ اس کی بناوٹ میں یقینی طور پر غیر معمولی ذہانت پائی جاتی ہے۔ پھر کیسے عجیب ہیں وہ لوگ جو ڈی ڈی ٹی کے بارہ میں یہ مانتے ہیں کہ وہ ذہانت کی پیداوار ہے۔ مگر یہی بات وہ نیم جیسی چیزوں کے بارہ میں نہیں مانتے۔
‹ Previous page Next page › Contents of November 1986 All issues