ریاضیاتی دنیا
الرسالہ، نومبر ۱۹۸۶، صفحہ ۸
قیمتی قدرتی ذریعہ (Natural repellent) ہے۔ انسان نے کیمیائی طور پر جتنی کیڑے مار دوائیں بنائی ہیں وہ سب کیڑے پر اثر انداز ہونے کے ساتھ فضا کو بھی خراب کرتی ہیں اور اس طرح انسان کے لیے مضر بنتی ہیں۔ مگر نیم کے اندر یہ انوکھی صفت ہے کہ وہ کسی فضائی نقصان (Environmental damage) کے بغیر انسان کو اور نباتات کو مضر کیڑوں سے بچاتی ہے۔ مذکورہ کانفرنس میں ۲۱ ملکوں کے ک سو سے زیادہ سائنس داں جمع ہوئے۔ ہر ایک نے اپنے اپنے دائرہ میں نیم کے تجربات بتائے۔ ہالینڈ سے آنے والے ایک عالم ایل ای ایم اسچون ہوون (Dr. L. M. Schoonhoven) نے اپنے مقالہ میں بتایا کہ نیم کے اندر ایک انوکھا دفاعی نظام (Unique defence system) ہے۔ یہ نظام ایک بے حد نادر قسم کا کیڑا کنٹرول (Insect control) ذریعہ ہے۔ انھوں نے بتایا کہ ٹوگو (Togo) میں یہ تجربہ کیا گیا کہ کھیت کی مٹی میں نیم کی پتی ملا دی گئی۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ نباتاتی کیڑوں (Plant parasites) کی تعداد بہت گھٹ گئی۔ اور ایسے کھیت جن میں یہ عمل کیا گیا تھا ، فصل کی پیداوار میں نمایاں اضافہ (Spectacular increase) ہوا۔
ہندوستان کے نمائندہ نے اپنے مقالہ میں بتایا کہ نیشنل کیمیکل لیبارٹری (پونا) نے نیم کا ایک کمپاؤنڈ تیار کیا ہے جس کا نام نیم رچ (Neemrich) ہے ۔ مکئی ، آلو اور بعض دوسری فصلوں میں نیمرچ کے تجربے کیے گئے جس کے نتیجہ میں ان کی پیداوار میں قابل لحاظ اضافہ ہوا۔ موجودہ زمانہ میں دنیا کے تمام ملکوں میں کیڑے مار دواؤں (Pesticides) کا استعمال عام ہے ان دواؤں کے استعمال سے یقیناً زرعی پیداوار میں اضافہ ہوا ہے۔ مگر ابھی تک انسان یہ دریافت نہ کر سکا کہ ان دواؤں کے استعمال سے فضا پر جو مضر اثرات ہوتے ہیں ان سے کس طرح بچا جائے ۔ یہ کیڑے مار دوائیں اگر ایک طرف کیڑے کو مارتی ہیں تو اسی کے ساتھ وہ انسان کو بھی نقصان پہنچاتی ہیں۔ اگر آپ لکڑی اور پتی کو آگ میں ڈالیں تو دونوں جل جائیں گی۔ کیوں کہ اصل کے اعتبار سے دونوں ایک ہیں ۔ اسی طرح انسان اور کیڑے دونوں زندہ انواع ہیں۔ جو چیز ایک کے لیے نقصان دہ ہے وہی دوسرے کے نقصان کا باعث بھی ہوتی ہے۔
انسان کو مضر بیکٹیریا سے بچانے کے لیے اینٹی بایوٹک دوائیں کھلائی جاتی ہیں ۔ یہ دوائیں
‹ Previous page Next page › Contents of November 1986 All issues