ذرہ بھی غائب نہیں
الرسالہ، نومبر ۱۹۸۶، صفحہ ۱۱
ذرہ بھی غائب نہیں
ہوابازی کے قانون کے مطابق بارہ ہزار پاؤنڈ سے زیادہ وزنی ہوائی جہازوں کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنے ساتھ بلیک باکس رکھیں ۔ بلیک باکس دو چھوٹے چھوٹے خاص قسم کے ٹیپ ریکارڈر ہیں ، جس میں سے ایک کو فلائٹ ریکارڈر اور دوسرے کو وائس ریکار ڈر کہا جاتا ہے ۔ ان میں سے ہرایک اوسطاً ۲۰ انچ لمبا اور ۶ انچ چوڑا ہوتا ہے ۔ اس کا وزن کم و بیش ۲۵ پاؤنڈ ہوتا ہے یہ دونوں ریکارڈر ہوائی جہاز کی دم میں رکھ دیئے جاتے ہیں تاکہ حادثہ کے وقت محفوظ رہ سکیں وہ مخصوص نظام کے تحت پائلٹ کی آواز ، جہاز کی رفتار اور دوسری ضروری معلومات ریکاڈ کرتے رہتے ہیں ۔ ان کا ٹیپ آٹومیٹک طور پر ہر آدھ گھنٹہ میں مٹ جاتا ہے تاکہ جہاز کے آخری لمحات کا حال ان سے معلوم ہو سکے ۔
۲۳ جون ۱۹۸۵ کو ایک سخت ہوائی حادثہ ہوا ۔ ایئر انڈیا کا ایک بڑا جہاز (بوئنگ ۷۴۷) کناڈا سے لندن ہوتا ہوا ہندوستان آ رہا تھا ۔ زمینی کنٹرول جہاز کی لمحہ لمحہ رپورٹ لے رہا تھا ۔ اچانک اس کی کمپیوٹر اسکرین پر جہاز کی تصویر غائب ہوگئی ۔ جہاز سے پیغامات آنا بالکل بند ہوگئے ۔ جہاز ایک حادثہ کا شکار ہو کر اچانک اٹلانٹک سمندر میں گر پڑا تھا ۔ جہاز پر ۳۲۹ مسافر تھے جو سب کے سب ہلاک ہو گئے ۔ ان میں سے کوئی بھی زندہ نہ بچا جو حادثہ کی تفصیلات دنیا والوں کو بتا سکے ۔
اب حادثہ کی بابت معلوم کرنے کا ذریعہ صرف وہ بلیک باکس تھا جو اٹلانٹک سمندر میں تہہ نشین ہو کر رہ گیا تھا ۔ اٹلانٹک سمندر دنیا کا دوسرا سب سے بڑا سمندر ہے ۔ اس کا رقبہ چھوٹے چھوٹے ذیلی سمندروں کو ملا کر چار کروڑ گیارہ لاکھ مربع میل ہے ۔ اس نا پیدا کنار سمندر میں بلیک باکس کی حیثیت صرف ایک چھوٹے سے ذرہ کی تھی جو سمندر کے نیچے دو میل کی گہرائی میں پڑا ہوا تھا ۔ بظاہر اس ذرہ کو سمندر سے نکالنا ناممکن تھا ۔ مگر یہ ناممکن ممکن ہو گیا اور ۱۰ جولائی ۱۹۸۵ کو وائس ریکارڈر اور ۱۱ جولائی ۱۹۸۵ کو فلائٹ ریکار ڈر گہرے سمندر کی تہہ سے نکال لیا گیا ۔
یہ معجزہ کیسے پیش آیا ۔ وہ ریڈیائی لہروں کے ذریعہ کنٹرول کیے جانے والے مشینی انسان
‹ Previous page Next page › Contents of November 1986 All issues