Al-Risala · November 1986 · page 12

الرسالہ کیسٹ

الرسالہ، نومبر ۱۹۸۶، صفحہ ۱۲

(Remote-controlled Robot) کے ذریعہ پیش آیا۔ بلیک باکس میں ایسی مشینیں ہوتی ہیں جن کے ذریعہ وہ ریڈیائی سگنل بھیجتا رہتا ہے۔ یہ سگنل اس سے ہر سکنڈ میں نکلتے ہیں اور رتیس دن تک جاری رہتے ہیں۔ فرانس اور امریکہ اور برطانیہ کی جدید سامان سے مسلح کشتیوں نے سگنل کے ذریعہ ان کے جائے وقوع کا ٹھیک ٹھیک پتہہ لگا لیا ۔ اس کے بعد مخصوص کیمرہ کے ذریعہ اس کی تصویریں لی گئیں۔ پھر مشینی انسان (Robot) سمندر کی تہ میں بھیجے گیے۔ جو انسان کی مانند بازو اور ہاتھ اور انگلیاں رکھتے ہیں۔ یہ روبوٹ ریڈیائی لہروں سے کنٹرول ہوتے ہیں۔ انسان سمندر کے اوپر مشینی اسکرین پر سارا منظر دیکھتا ہے اور ریڈیائی لہروں کے ذریعہ روبوٹ کی رہنمائی کرتا ہے تاکہ وہ متعین مقام پر پہونچ کر بلیک باکس کو اپنے ہاتھوں سے پکڑ لیں اور پھر اوپر لاکر انسان کے حوالے کر دیں ۔

یہ طریقہ تھا جس کو استعمال کر کے اتھاہ سمندر سے ایک چھوٹے سے ذرہ کو نکال لیا گیا اور اس نے جہاز کے حادثہ کی ساری کہانی انسان کو بتادی۔

جب میں نے اخبارات میں ان تفصیلات کو پڑھا تو مجھے ایسا محسوس ہوا جیسے اس واقعہ کی صورت میں اُس عظیم تر واقعہ کا اظہار (Demonstration) دیا جا رہا ہے جو قرآن میں ان لفظوں میں بیان ہوا ہے :

وما يَعْزُبُ عَن رَبِّكَ مِن مِّثْقَالِ ذَرَّةٍ اور تیرے رب سے کوئی چیز ذرہ برابر بھی غائب فِي الأَرْضِ وَلاَ فِي السَّمَاءِ وَلاَ أَصْغَرَ مَن نہیں ، نہ زمین میں اور نہ آسمان میں اور نہ اس ذالِكَ وَلاَ أَكْبَرَ إِلَّا فِي كِتَابٍ مُّبِينٍ سے چھوٹی اور نہ اس سے بڑی، مگر وہ ایک (یونس ٦١) واضح نوشتہ میں ہے ۔

الرسالہ کیسٹ

الرسالہ کیسٹ نمبر ۷ زیر تیاری ہے ۔ انشاء اللہ بہت جلد اس کی روانگی شروع ہو جائے گی ۔

منیجر

‹ Previous page Next page › Contents of November 1986 All issues

Printed page