Al-Risala · November 1986 · page 19

فرق کا سبب

الرسالہ، نومبر ۱۹۸۶، صفحہ ۱۹

فرق کا سبب

ستمبر 1986 میں سی اول (کوریا) میں دسویں ایشیائی کھیل (10th Asian Games) ہوئے، اس 16 روزہ مقابلہ میں ساوتھ کوریا کو مجموعی طور پر سب سے زیادہ میڈل ملے۔ چند ملکوں کی تفصیل یہ ہے : (Gold) (Silver) (Bronze) Total China 94 82 46 222 S. Korea 93 55 76 224 Japan 58 76 77 211 Iran 6 6 10 22 India 5 9 23 37 Philippines 4 5 9 18 Thailand 3 10 13 26 Pakistan 2 3 4 9 اس نقشہ کے مطابق تین قوموں (چین، کوریا، جاپان) نے270 سونے کے میڈل میں سے 225 میڈل حاصل کیے ۔ ساوتھ کوریا کے مقابلہ میں ہندوستان بہت بڑا ملک ہے، مگر اوپر کے نقشہ سے ظاہر ہے کہ ہندوستان اس مقابلہ میں ساوتھ کوریا سے بہت پیچھے رہا۔ اس پر تبصرہ کرتے ہوئے نئی دہلی کے انگریزی اخبار انڈین ایکسپریس (۲ اکتوبر 1986) نے لکھا ہے کہ کوریا والوں نے اپنے کھلاڑیوں کو چننے کے لیے ایک کمپیوٹر کا استعمال کیا اور ہر کھیل کے لوگوں کی تربیت پر ایک ایک ملین ڈالر خرچ کیے ۔ یہ تربیتی عمل دو سال تک جاری رہا ۔ ہندوستان نے اپنا روایتی طریقہ کو شش کرو، خواہ ہار جاؤ اختیار کیا، جو اس کی پرانی بیماری، علاقائیت اور اقربا نوازی سے بھی پوری طرح خالی نہ تھا ! The Koreans used a computer to select their athletes and spent $ a million to train them for each discipline, for two years. India used familiar try-or-miss methods in which the old malady of parochialism and nepotism may not have been at a total discount. دوسرے لفظوں میں یہ کہ کوریا والوں نے اپنے کھلاڑیوں کا انتخاب ان کے ذاتی جوہر کو دیکھ کر کیا ۔ اور ہندوستان میں کھلاڑیوں کا انتخاب زیادہ تر تعلقات کی بنیاد پر کیا گیا۔ کوریا نے بہت سے کھلاڑیوں کے بارے میں ضروری معلومات کمپیوٹر کے اندر بھر دیں اور پھر کمپیوٹر نے مشین غیر جانبداری کے ساتھ جو فیصلہ کیا اس کو مان لیا۔ اس کے برعکس ہندوستان میں انتخاب کی بنیاد یہ تھی کہ یہ میرا رشتہ دار ہے، یہ میرے علاقہ کا آدمی ہے۔ جہاں طریقہ میں اس قسم کا فرق پایا جائے وہاں نتیجہ میں فرق پیدا ہو جانا لازمی ہے ۔

‹ Previous page Next page › Contents of November 1986 All issues

Printed page