Al-Risala · November 1986 · page 18

مردہ لوگ

الرسالہ، نومبر ۱۹۸۶، صفحہ ۱۸

یہ انسان

جدید مغربی تہذیب کی بنیاد بے قید آزادی اور لذتیت پر کھیتی ہے۔ اس تہذیب کے اثرات ساری دنیا میں پھیلے۔ یہاں تک کہ امیر اور غریب ، جاہل اور عالم ، کوئی بھی اس سے متاثر ہوئے بغیر نہ رہا۔ یہ صورت حال آج اپنی انتہا کو پہنچ گئی ہے اور اس نے ساری دنیا میں انسان کو غیر انسان بنا کر رکھ دیا ہے۔ آج کے آدمی کے سامنے صرف اپنی خواہش اور اپنا فائدہ ہے۔ وہ اپنی خواہش اور اپنے فائدہ کو سب سے اعلیٰ چیز سمجھتا ہے۔ وہ اس کے حصول کے لیے سب کچھ کر سکتا ہے ۔ خواہ وہ صحیح ہو یا غلط۔

تہذیب جدید کے ان اثرات کا سب سے بڑا حصہ ان ملکوں کو ملا ہے ۔ جن کے مجموعہ کو برصغیر ہند کہا جاتا ہے۔ اس جغرافی خطہ کا حال یہ ہے کہ آج قوم کی قوم یہ حس جانوروں کے ایک جنگل میں تبدیل ہو گئی ہے۔ ان ملکوں میں ایک سنجیدہ اور حساس آدمی کے لیے زندہ رہنا ، حدیث کے الفاظ میں ، کالت بعض علی الجمر کا مصداق بن گیا ہے۔ یعنی ایسا جیسے اپنی مٹھی میں انگارہ لینا ۔ آج ہم ایسے لوگوں کے درمیان ہیں جن کا حال یہ ہے کہ شر ان کی غذا ہے بے انصافی کر کے ان کی روح کو لذت ملتی ہے۔ وہ ظالمانہ کارروائی کرتے ہیں اور اس میں کامیاب ہو کر خوشی کے قہقہے لگاتے ہیں۔ لوگ اپنی جائز کمائی کو کھا کر سیر نہیں ہوتے ، وہ صرف اس وقت سیری محسوس کرتے ہیں جب کہ انھوں نے دوسروں کے اوپر ڈاکہ ڈال کر ان کے مال اور جائیداد پر قبضہ کر لیا ہو۔ آج لوگوں کا حال یہ ہے کہ کسی کے بارہ میں سچی بات کا اعلان کر کے ان کی زبان تر نہیں ہوتی۔ ان کی زبان کی حلاوت صرف یہ ہے کہ وہ دوسروں کے خلاف جھوٹا پر وپیگنڈا کر رہی ہو۔ دوسروں کی حیثیت کا اعتراف کر کے ان کا سینہ ٹھنڈا نہیں ہوتا۔ ان کے سینہ کی ٹھنڈک یہ ہے کہ وہ دوسرے کا اعتراف نہ کریں ، وہ عزت والے کو بے عزت کریں اور جس کو خدا نے اونچا کیا ہو اس کو ذلیل کر کے اپنی روح کی تسکین حاصل کریں ۔ آج کی دنیا جھوٹ پر کھڑے ہونے والوں کی دنیا ہے ، آخرت کی دنیا سچ پر کھڑے ہونے والوں کی دنیا ہوگی۔ پھر اس دن وہ لوگ کہاں کھڑے ہوں گے جو صرف جھوٹ پر کھڑا ہونے والا پاوں اپنے پاس رکھتے تھے۔

‹ Previous page Next page › Contents of November 1986 All issues

Printed page