Al-Risala · November 1986 · page 21

الزام کافی نہیں

الرسالہ، نومبر ۱۹۸۶، صفحہ ۲۱

میں فیصلہ دے دیا ہے ۔

چنانچہ روایات میں آتا ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں کا فیصلہ فرمایا تو اس فیصلہ کو سن کر حاطب بن ابی بلتعہ نے کہا : یارسول اللہ ان کان ابن عمتك (اے خدا کے رسول کیا اس لیے کہ وہ آپ کی پھوپھی کے لڑکے ہیں) دوسری روایت میں یہ الفاظ ہیں کہ انھوں نے کہا : انما قضني له لا انه ابن عمته (رسول اللہ نے اس کے حق میں اس لیے فیصلہ کیا کہ وہ ان کی پھوپھی کے لڑکے ہیں) (تفسیر ابن کثیر ، الجزء الاول ، صفحه ۲۱ - ۵۲۰)

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم معصوم عن الخطا تھے۔ آپ سے غلطی کا صدور نہیں ہو سکتا تھا۔ اس لیے یقینی ہے کہ یہ الزام بالکل غلط تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جو فیصلہ کیا ، وہ اخلاص کے تحت کیا اور عین درست کیا۔ اس کے باوجود ایک صحابی کو آپ کے بارے میں شبہ لاحق ہو گیا اور اس نے آپ کے اوپر جانب داری کا الزام لگا دیا۔

یہ واقعہ بتاتا ہے کہ الزام کے الفاظ بول دینا کسی کے ملزم ثابت ہونے کے لیے کافی نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ جو آدمی بلا ثبوت کسی پر الزام لگائے اور جو لوگ محض الزام کے الفاظ سن کر متعلقہ شخص کو ملزم سمجھ لیں، وہ دونوں سخت گنہ گار ہیں۔ وہ ایسے جرم کا ارتکاب کر رہے ہیں جس کی خدا کے یہاں کوئی معافی نہیں، الا یہ کہ وہ توبہ کریں اور اللہ ان کی توبہ کو قبول کرلے ۔ یہ واقعہ اور اس طرح کے دوسرے واقعات بتاتے ہیں کہ کسی کے اوپر الزام لگانے کے معاملہ میں ہم کو آخری حد تک محتاط رہنا چاہیے ۔ جب معصوم پیغمبر کے بارے میں غلط فہمی کا امکان ہے تو عام انسان کے بارہ میں بدرجہ اولی غلط فہمی کا امکان ہے ۔ عین ممکن ہے کہ جس چیز کو ہم ایک شخص کی خطا سمجھ رہے ہیں ، وہ اس کی خطا نہ ہو بلکہ خود سمجھنے والے کی غلط فہمی ہو۔ وہ اس کی اپنی نظر کا قصور ہو نہ کہ متعلقہ شخص کی نیت یا عمل کا قصور۔

تبلیغی تحریک (انگریزی)

" تبلیغی تحریک " اس سے پہلے اردو میں شائع ہوئی تھی۔ اب اس کا انگریزی ایڈیشن پریس میں ہے ۔ جلد ہی ان شاء اللہ چھپ کر آجائے گی ۔ منیجر

‹ Previous page Next page › Contents of November 1986 All issues

Printed page