Al-Risala · November 1986 · page 22

منافقت

الرسالہ، نومبر ۱۹۸۶، صفحہ ۲۲

منافقت

منافقت اور یہودیت دونوں ایک ہی حقیقت کے دو نام ہیں۔ مسلم اقوام میں جس بگاڑ کو منافقت کہا گیا ہے، قدیم امتوں کے لیے اسی بگاڑ کا نام یہودیت ہے۔ منافقت یا یہودیت یہ ہے کہ آدمی زبان سے خدا اور رسول کا اقرار کرتا ہو ۔ مگر خدا اور رسول کا عقیدہ اس کے دل کی گہرائیوں میں اترا ہوا نہ ہو۔ وہ آسمانی تعلیمات کو ماننے کا مدعی ہو مگر اس کی زندگی اسلامی تعلیمات کی حقیقی تعمیل سے خالی ہو ۔

یہی وجہ ہے کہ قرآن وحدیث میں منافق کی جو علامتیں بتائی گئی ہیں وہ سب وہی ہیں جو یہودیوں کی علامتیں بھی بتائی گئی ہیں۔ مثلاً حدیث میں منافق کی ایک علامت یہ ہے کہ جب اس کو کوئی امانت سونپی جائے تو وہ اس امانت میں خیانت کرے (اذا ائْتمن خان) ٹھیک یہی علامت یہودیت کی قرآن میں اس طرح بیان ہوئی ہے کہ یہودیوں میں ایسے لوگ بھی ہیں کہ اگر تم ان کے پاس ایک دینار بھی امانت رکھ دو تو وہ تم کو ادا نہ کریں جب تک تم ان کے سر پر کھڑے نہ ہو جاؤ ( وَمِنْھُمْ من ان تأمنه بدينار لا يوده اليك الا ما دمت عليه قائما ، آل عمران (۷۵)

یہودی وہ لوگ تھے جو خدا کی پرستاری کو چھوڑ کر دنیا کے پرستار بن گئے۔ مگر اپنی اس دنیا پرستی کے ساتھ وہ ظاہری طور پر دین کا لبادہ بھی اوڑھے ہوئے تھے۔ اسی طرح منافقت یہ ہے کہ آدمی اندر سے دنیا دار ہو مگر ظاہری طور پر وہ دین دار کی صورت بنائے ہوئے ہو۔ یہودی حقیقتہ دین دار نہیں ہوتا مگر وہ مصنوعی طور پر اپنے آپ کو دین دار ظاہر کرتا ہے۔ اسی طرح منافق بھی حقیقتہ دین دار نہیں ہوتا مگر وہ مصنوعی طور پر اپنے آپ کو دین دار ظاہر کرتا ہے ۔

ایسے لوگوں کے اندر جو کمزوریاں ظاہر ہوتی ہیں ان میں سے ایک خاص کمزوری یہ ہے کہ وہ دنیوی اہمیت رکھنے والی چیزوں کے معاملہ میں ناقابلِ اعتبار ہو جاتے ہیں۔ ان سے مالی لین دین کیا جائے ، کوئی جائداد ان کے انتظام میں دی جائے ، کسی با عزت عہدے پر انھیں

‹ Previous page Next page › Contents of November 1986 All issues

Printed page