Al-Risala · December 1986 · page 9

پیغمبر کی تمثیل

الرسالہ، دسمبر ۱۹۸۶، صفحہ ۹

دونوں قسم کے انسانوں کو ایک دوسرے سے جدا کر دے۔ دودھ بلویا جاتا ہے تو مکھن الگ ہو جاتا ہے اور چھاچھ الگ۔ اسی طرح پیغمبر کی دعوت کا اٹھنا ایک قسم کا بلو نے کا عمل ہے۔ اس کے نتیجہ میں دونوں قسم کے انسان ایک دوسرے سے الگ ہو جاتے ہیں ۔

کسی آبادی میں جب اللہ کی طرف سے ایک پکارنے والا پکارنے کے لیے اٹھتا ہے تو عملاً یہ ہوتا ہے کہ کچھ لوگ اس کی پکار پر لبیک کہتے ہیں اور کچھ اس کے منکر بن جاتے ہیں۔ یہ گویا انسانیت کی تقسیم ہے جو اللہ کے نمائندے کے ذریعہ عمل میں آتی ہے۔ وہ شخص جو اپنی فطرت کو زندہ کیے ہوئے تھا اس کا حال یہ ہوتا ہے کہ وہ سچائی کی آواز کو اس طرح پہچان لیتا ہے جس طرح ایک بچہ اپنی ماں کی آواز کو۔

خدا نے اس کو انسان کی زبان سے پکارا تو اس نے اپنے رب کی آواز کو پہچان لیا اور اس کی طرف دوڑ پڑا۔ حق کی دعوت جب اس کے ذہن سے ٹکرائی تو اس کے اندر اعتراف، تواضع، تقویٰ اور حق شناسی ابھرا۔ اس نے اپنی زندگی کو پوری طرح اللہ کے راستہ پر ڈال دیا۔ دنیوی مفاد، عزت کا سوال، مصلحتوں کے اندیشے، کوئی بھی چیز اس کے لیے اپنے رب کا راستہ اختیار کرنے میں رکاوٹ نہیں بنے۔ دوسرے لوگ وہ ہیں جنھوں نے خدا کی دی ہوئی آنکھ اور کان کو اس طرح بگاڑ رکھا تھا کہ خدا کی آواز انتہائی عیاں ہونے کے باوجود، ان کی سمجھ میں نہ آسکی۔ وقتی مفادات، عوامی دباؤ اور شخصی مصالح کو انھوں نے وہ اہمیت دی جو صرف حق کو دی جانی چاہیے۔ انھوں نے دنیا کے تقاضوں کو ترجیح دی اور آخرت کے تقاضوں کو ٹھکرا دیا۔ وہ اپنی ذات میں گم رہے اور خدا کی طرف نہیں لپکے۔

حدیث میں آیا ہے کہ اذا قرأ أحدکم والتين والزيتون فَاَتیٰ على آخرها أليس الله بأحكم الحٰکِمیْن) فَلْيَقُلْ بَلَى وَأَنَا عَلَى ذَلِكَ مِنَ الشَّاهِدِينَ - جب تم میں سے کوئی شخص سورہ والتین والزیتون پڑھے اور اس کے آخر تک پہنچے تو اس کو چاہیے کہ وہ کہے کہ ہاں، اور میں اس پر گواہی دینے والوں میں سے ہوں ۔ بعض روایات میں ہے کہ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت پڑھی تو فرمایا : سُبْحَانَكَ فَبلی - قرآن یہ چاہتا ہے کہ ایک شخص جب اس کو پڑھے تو اس کے پڑھنے سے اس کی نفسیات میں ہلچل پیدا ہو. وہ قرآن کے مضامین کے مطابق ہر موقع پر مناسب جواب پیش کرتا چلا جائے ۔

‹ Previous page Next page › Contents of December 1986 All issues

Printed page