دلیل یا دھاندلی
الرسالہ، دسمبر ۱۹۸۶، صفحہ ۱۰
دلیل یا دھاندلی
قرآن سے معلوم ہوتا ہے کہ پیغمبر ہمیشہ (دلیل) پر کھڑے ہوتے تھے ۔ اس کے مقابلہ میں ان کے مخالفین کا سارا سرمایہ اندھی مخالفت اور دھاندلی ہوتا تھا ۔ پیغمبر کی بات حقائق کی بنیاد پر ہوتی تھی اور ان کے مخالفین کی بات محض نفسانی سرکشی کی بنیاد پر ۔
یہی موجودہ دنیا میں اہلِ حق اور اہلِ باطل کی سب سے بڑی پہچان ہے۔ پیغمبر خدائی سچائی کا نمائندہ ہوتا ہے۔ اس لیے اس کی ہر بات مبنی بر حقیقت ہوتی ہے ۔ وہ جو کچھ کہتا ہے خدا کے اتارے ہوئے علم کی بنیاد پر کہتا ہے ، اس لیے وہ جو کچھ کہتا ہے ، پوری کائنات اس کی تصدیق کرتی ہے۔ اس کے برعکس اس کے مخالفین جو کچھ کہتے ہیں محض اپنی خواہشات اور مفادات کے تحت کہتے ہیں، اس لیے ان کی بات کو علم و عقل کی تصدیق حاصل نہیں ہوتی ۔
موجودہ دنیا امتحان کی دنیا ہے ۔ یہاں ہر آدمی آزاد ہے کہ وہ جو چاہے کرے ۔ یہاں کوئی شخص سچ بولے تو اس کو بھی الفاظ مل جاتے ہیں اور اگر کوئی شخص جھوٹ بولے تو وہ بھی اپنی بات کے لیے الفاظ پالیتا ہے ۔ لعنت اور گھیر اس کا بھی ساتھ دیتے ہیں اور اُس کا بھی۔ مگر یہ آزادی صرف موجودہ دنیا کی حد تک ہے ۔ آخرت میں یہ آزادی آدمی سے چھن جائے گی ۔ آخرت میں وہ اس سے عاجز ہوگا کہ وہ جھوٹ بولنے کے لیے الفاظ پا سکے ۔ وہ دھاندلی کو بھی ایک صحیح رویہ بتائے اور ظالمانہ کارروائی کو بھی انصاف کہہ سکے ۔
آج کی دنیا جھوٹ پر کھڑے ہونے والوں کی دنیا ہے ۔ آخرت کی دنیا سچ پر کھڑے ہونے والوں کی دنیا ہوگی ۔
آج کی دنیا میں لوگوں کو جھوٹ کی قیمت مل رہی ہے۔ فریب اور سازش کی بنیاد پر وہ مقام حاصل کیے ہوئے ہیں ۔ مگر یہ سب سراسر وقتی ہے ۔ موت آتے ہی یہ تمام بنیادیں بالکل باطل ثابت ہوں گی ۔ موت کے بعد آدمی جب اگلی دنیا میں داخل ہوگا تو اچانک وہ اپنے آپ کو بالکل بے بس پائے گا ۔ وہ زمین اس کے قدموں کے نیچے سے نکل چکی ہوگی جس پر وہ کھڑا ہوا تھا۔ وہ ابدی طور پر بے جگہ ہو جائے گا اور اسی کے ساتھ ابدی طور پر برباد بھی ۔
‹ Previous page Next page › Contents of December 1986 All issues