والدین کی ذمہ داری
الرسالہ، دسمبر ۱۹۸۶، صفحہ ۱۶
والدین کی ذمہ داری
عن ابی ھریرۃ رضی اللہ عنہ قال قال رسول اللہ حضرت ابو ہریرہ ٹرین سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ما من مولود یولد الا صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ ہر پیدا ہونے والا علی الفطرۃ فالبوالہ یہودانہ اوینصرانہ او فطرت (صحیح) پر پیدا ہوتا ہے۔ پھر اس کے یمجسانہ ۔ ماں باپ اس کو یہودی بنا دیتے ہیں یا اس کو نصرانی بنا دیتے ہیں یا اس کو مجوسی بنا دیتے ہیں۔
اس کا مطلب صرف مذہبی معنوں میں یہودی اور عیسائی اور مجوسی بنانا نہیں ہے۔ یہ تو بنانے کی آخری صورت ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اس میں ہر وہ بگاڑ شامل ہے جو والدین کے ذریعہ ان کی اولاد میں پیدا ہوتا ہے۔ چنانچہ دوسری روایتوں میں عمومی الفاظ بھی آئے ہیں۔ مثلاً : عن جابر بن عبد اللہ قال قال رسول اللہ حضرت جابر بن عبداللہ سے روایت ہے کہ صلی اللہ علیہ وسلم کل مولود یولد علی الفطرۃ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ ہر پیدا حتی یعرب عنه لسانه فذا عبر عنہ ہونے والا فطرت (صحیح) پر پیدا ہوتا ہے۔ لسانه اما شاکرا و اما کفورا ۔ یہاں تک کہ جب وہ بولنے لگے۔ پھر جب وہ بولنے لگتا ہے تو وہ شکر گزار یا ناشکر بن جاتا ہے۔
بچے پیدا ہوتے ہی بولنے نہیں لگتے۔ وہ کچھ عرصہ کے بعد بولتے ہیں۔ بولنے سے پہلے ان کا ربط ان کی پیدائشی فطرت سے ہوتا ہے، بولنے کے بعد ان کا ربط ان کے قریبی ماحول سے ہو جاتا ہے جو کچھ ملے اس پر اللہ کا شکر کرنا ہے یا اس کو کسی اور کا عطیہ سمجھنا ہے، اس کا ابتدائی سبق انھیں اپنے ماں باپ سے ملتا ہے۔ کسی کو چھوٹا دیکھ کر اس کو حقیر سمجھنا یا کسی کو بڑا دیکھ کر جل اٹھنا، یہ بھی پہلی بار ان کو اپنے والدین ہی کے ذریعہ معلوم ہوتا ہے۔ اس طرح والدین یا تو اپنے بچوں کو نیک عمل بناتے ہیں یا ان کو بد عمل بنا دیتے ہیں۔ بچہ کا گھر اس کا سب سے پہلا مدرسہ ہے اور بچہ کے والدین اس کے سب سے پہلے معلم۔
‹ Previous page Next page › Contents of December 1986 All issues