اسلام کی آفاقیت
الرسالہ، دسمبر ۱۹۸۶، صفحہ ۱۵
پھر اسلام آدمی کو انسانی موشگافیوں والے دین سے نکالتا ہے ۔ وہ آدمی کو جھوٹے رسم و رواج والے مصنوعی دین سے باہر لاتا ہے ۔ وہ اس کو سچے دین سے آشنا کرتا ہے جہاں ایک طرف انسان ہوتا ہے اور دوسری طرف خدا ۔ جہاں خدا اور بندے کے درمیان کوئی دوسری چیز حائل نہیں ، جہاں خدا سے ملنے کے لیے رسم و رواج کے بندھنوں میں اپنے کو باندھنے کی ضرورت نہیں ۔
خدا ہر آن اپنے بندوں تک پہونچا ہوا ہے ، اسی طرح خدا کے بندے بھی ہر آن خدا تک پہونچ سکتے ہیں ۔ خدا اور بندے کے درمیان کوئی رکاوٹ نہیں ، اس لیے خدا اور بندے کے ملاپ کے لیے کسی درمیانی واسطہ کی ضرورت بھی نہیں ۔ انسان جب اس ابدی دنیا میں پہونچتا ہے تو وہ خدا کو بھی عین اسی مقام پر پا لیتا ہے جہاں وہ خود کھڑا ہوا ہے ۔
اسلام توحید کا دین ہے ۔ اسلام میں خدا ایک ہے اور ساری خدائی بھی اسی ایک ذات کو حاصل ہے ۔ جو لوگ اس خالص توحید کو پالیں وہ ایسی لامحدود دنیا میں پہونچ جاتے ہیں جہاں آفاقیت ہی آفاقیت ہے ، اور جہاں ابدیت ہی ابدیت ۔
‹ Previous page Next page › Contents of December 1986 All issues