Al-Risala · December 1986 · page 18

آزمودہ حل

الرسالہ، دسمبر ۱۹۸۶، صفحہ ۱۸

کہ زمین کس کی ہے اور کس کی نہیں ہے۔ ان لوگوں نے اصولی طور پر اس سے اتفاق کیا۔ اس طرح جب مذکورہ مسلمان نے جن سنگھی لیڈروں سے یہ اقرار کرا لیا کہ زمین کا مسئلہ کاغذ کو دیکھ کر طے ہوتا ہے تو اس کے بعد انھوں نے کہا کہ اب میں اس مسئلہ میں خود آپ لوگوں کو جج بناتا ہوں۔ میرے پاس جو کاغذات ہیں وہ میں آپ کو دے رہا ہوں۔ ٹھیکیدار صاحب کے پاس جو کاغذات ہیں وہ آپ ان سے لے لیں۔ اور دونوں کو لے کر اطمینان کے ساتھ گھر جائیں۔ تمام کاغذات کو دیکھ کر آپ خود فیصلہ دیدیں۔ اور میں پیشگی طور پر آپ سے وعدہ کرتا ہوں کہ آپ جو فیصلہ کریں گے وہ مجھ کو بلا شرط منظور ہوگا۔

اب جن سنگھی لیڈروں کا موڈ بدل گیا۔ ہندو ٹھیکیدار نے مذکورہ مسلمان کی جو تصویر بتائی تھی، عملی تجربہ میں انھوں نے ان کو اس سے بالکل مختلف پایا۔ جن سنگھی لیڈروں کی رہنما اب تک ہندو ٹھیکیدار کی غلط رپورٹ تھی، اب ان کا رہنما ان کا وہ ضمیر بن گیا جو خدا نے ان کے سینہ کے اندر پیدا کیا تھا۔ چنانچہ وہ کاغذات کو لے کر دفتر سے باہر آئے اور ہجوم سے کہا کہ آپ لوگ اپنے گھروں کو واپس چلے جائیں۔ "میاں صاحب" نے فیصلہ خود ہمارے ہاتھ میں دیدیا ہے۔ ہم سوچ کر اس معاملہ کا فیصلہ کریں گے ۔ اس کے بعد جو ہوا وہ یہ کہ ان لوگوں نے کاغذات دیکھنے کے بعد مکمل طور پر مذکورہ مسلمان کے حق میں اپنا فیصلہ دیدیا۔ یہ واقعہ ۱۹۶۵ کا ہے اور اتر پردیش کے ایک شہر سے تعلق رکھتا ہے۔ اس واقعہ کے تمام اہم کردار آج بھی زندہ موجود ہیں۔ کوئی شخص تصدیق کرنا چاہے تو میں اس کا نام اور پتے دیدوں گا، وہ اصل مقام پر جاکر اس کی مکمل تصدیق حاصل کر سکتا ہے۔ حال میں بابری مسجد (ایودھیا)، اور عید گاہ (متھرا) وغیرہ کے مسائل پیدا ہوئے تو مجھ کو بار بار مذکورہ واقعہ یاد آتا رہا۔ خیال ہوا کہ کاش مسلمانوں کے لیڈر سنجیدہ اور حقیقت پسند ہوتے تو وہ اس طرح کے قومی مسائل میں بھی وہی تدبیر اختیار کرتے جو مذکورہ مسلمان نے اپنے ذاتی مسئلہ میں اختیار کی اور صد فی صد کامیابی حاصل کی۔ اگر ایسا کیا گیا ہوتا تو یقینی طور پر یہ مسائل نہایت خوش اسلوبی کے ساتھ حل ہوجاتے ۔ اور آئندہ کے لیے اس قسم کے نئے مسائل پیدا ہونے کا دروازہ بھی بند ہو جاتا۔

‹ Previous page Next page › Contents of December 1986 All issues

Printed page