Al-Risala · December 1986 · page 16

آزمودہ حل

الرسالہ، دسمبر ۱۹۸۶، صفحہ ۱۶

مگر مسلمانوں کے نادان لیڈروں کا طریقہ یہ ہے کہ جب بھی اس طرح کا کوئی مسئلہ پیدا ہوتا ہے تو وہ فوراً اس کو جوابی ہنگامہ آرائی کا عنوان بنا لیتے ہیں ۔ پر جوش تقریریں کرنا اور سڑکوں پر جلوس اور نعروں کے مظاہرے کرنا ، یہی آخری بات ہے جو ان کی عقل انہیں بتاتی ہے ۔ یہ طریقِ کار ممکن ہے کہ لیڈروں کی اپنی لیڈری کے لیے مفید ہو ، مگر اصل مسئلہ کی نسبت سے وہ بر عکس نتیجہ پیدا کرنے والا (counter-productive) ہے۔ ایک مسئلہ جو ابتداً محض چند مفاد پرست افراد کا مسئلہ تھا ، مظاہراتی طریقِ کار اختیار کرنے کے بعد وہ قومی مسئلہ کی حیثیت اختیار کر لیتا ہے ۔ وہ دونوں گروہوں کے لیے ساکھ (prestige) کا مسئلہ بن جاتا ہے۔ ملک کے سیاسی حکمراں اگر کچھ کر سکتے تو وہ بھی اب کرنے سے رک جاتے ہیں ۔ کیوں کہ انہیں ڈر ہوتا ہے کہ اگر انھوں نے کوئی انقلابی قدم اٹھایا تو اس کی انہیں یہ قیمت دینی پڑے گی کہ الیکشن کے موقع پر وہ اس فرقہ کے ووٹوں سے محروم ہو جائیں جس کے خلاف انھوں نے اپنا فیصلہ دیا ہے ۔

اس کے برعکس اگر مسلمان لیڈر یہ کہتے کہ وہ سنجیدگی اور خاموشی کے ساتھ اعلیٰ سطح کے لوگوں سے ملاقات کرتے اور ان کے سامنے یہ تجویز رکھتے کہ دونوں فرقوں کے باخبر اور قابلِ اعتماد افراد پر مشتمل کمیٹی بنائی جائے اور وہ تاریخی حقائق کا بے لاگ جائزہ لے کر فیصلہ کرے ۔ نیز جرأت مندانہ طریقہ اختیار کر کے وہ مذکورہ مسلمان کی طرح یہ بھی کہہ دیتے کہ کمیٹی جو فیصلہ کرے گی اس کو ہم بلا شرط مان لیں گے ۔ مسلمان لیڈر اگر یہ طریقہ اختیار کرتے تو یقینی طور پر مسئلہ اب تک ختم ہو چکا ہوتا ۔

اس رائے کا درست ہونا اس واقعہ سے بھی ثابت ہے کہ متعدد ہندو صاحبان نے اس معاملہ میں کھل کر اپنی قوم کے فرقہ پرستوں کی تردید کی ہے ۔ اور اس موضوع پر نہایت منصفانہ مضامین لکھے ہیں ۔ یہ مضامین نئی دنیا (دہلی) تعمیر حیات (لکھنؤ) نقیب (پٹنہ) اور دعوت (دہلی) وغیرہ میں نقل ہوئے ہیں ۔ ان اخبارات کی ۱۹۸۶ کی مثال میں ان مضامین کو دیکھا جا سکتا ہے ۔ اگر ان مضامین سے سبق لیا جائے تو وہ راقم الحروف کی تجویز کی معنویت ثابت کرنے کے لیے بالکل کافی ہیں ۔

‹ Previous page Next page › Contents of December 1986 All issues

Printed page