Al-Risala · February 1986 · page 6

مقصدیت

الرسالہ، فروری ۱۹۸۶، صفحہ ۶

کہا گبا تو انھوں نے خاموشی اختیار کی۔ جب زیادہ زور دیا گیا تو انھوں نے جواب دیا : You know, our Chinese friends have a way of twisting our tails, and appealing to our conscience. آپ جانتے ہیں کہ یہ ہمارے چینی دوستوں کا مہمیز لگانے کا طریقہ ہے۔ وہ ہمارے ضمیر کو متوجہ کر رہے ہیں۔ (ٹائمز آف انڈیا ۱۳ جون ۱۹۸۵)

جاپان کے سامنے ایک مقصد تھا۔ یعنی اپنی تجارت کو فروغ دینا۔ اس مقصد نے جاپان کے اندر کردار پیدا کیا۔ اس کے مقصد نے اس کو حکمت، برداشت، اعراض کرنا اور صرف بقدر ضرورت بولنا سکھایا۔ اس کے مقصد نے اس کو بتایا کہ کس طرح وہ ماضی کو بھلا دے اور تمام جھگڑوں اور شکایتوں کو یک طرفہ طور پر دفن کر دے تاکہ اس کے لیے مقصد تک پہنچنے کی راہ ہموار ہو سکے۔ یا مقصد گروہ کی نفسیات ہمیشہ یہی ہوتی ہے ۔ خواہ اس کے سامنے تجارتی مقصد ہو یا کوئی دوسرا مقصد ۔ اور جب کوئی گروہ یہ صفات کھو دے تو یہ اس بات کی علامت ہوتی ہے کہ اس گروہ نے مقصدیت کھودی ہے۔ اس کے سامنے چوں کہ کوئی مقصد نہیں اس لیے اس کے افراد کا کوئی کردار بھی نہیں ۔ موجودہ زمانہ میں مسلمانوں کی سب سے بڑی کمزوری ان کی بے کر داری ہے۔ جس میدان میں بھی تجربہ کیجیے ، آپ فوراً دیکھیں گے کہ مسلمانوں نے اپنا کردار کھو دیا ہے ۔ ان کے اوپر کسی ٹھوس منصوبہ کی بنیاد نہیں رکھی جاسکتی ۔ جہاں بھی انھیں استعمال کیا جائے وہ دیوار کی کچی اینٹ ثابت ہوتے ہیں۔ وہ دیوار کی پختہ اینٹ ہونے کا ثبوت نہیں دیتے ۔

اس کمزوری کی اصل وجہ یہی ہے کہ موجودہ زمانہ کے مسلمانوں نے مقصد کا شعور کھو دیا ہے ۔ وہ ایک بے مقصد گروہ ہو کر رہ گئے ہیں۔ ان کے سامنے نہ دنیا کی تعمیر کا نشانہ ہے اور نہ آخرت کی تعمیر کا نشانہ ۔ یہی ان کی اصل کمزوری ہے۔ اگر مسلمانوں میں دوبارہ مقصد کا شعور زندہ کر دیا جائے تو دوبارہ وہ ایک جاندار قوم نظر آئیں گے ۔ وہ دوبارہ ایک باکر دار گروہ بن جائیں گے جس طرح وہ اس سے پہلے ایک باکردار گروہ بنے ہوئے تھے۔

‹ Previous page Next page › Contents of February 1986 All issues

Printed page