بنیاد
الرسالہ، فروری ۱۹۸۶، صفحہ ۷
بنیاد
مکان کی تعمیر کا آغاز بنیاد سے ہوتا ہے ۔ ایک انجینئر کو " اسیکائی اسکریپر " بنانا ہو تب بھی وہ بنیاد ہی سے اس کا آغاز کر سکے گا ۔ بنیاد سے آغاز کرنا دوسرے لفظوں میں اس حقیقت واقعہ کا اعتراف کرنا ہے ۔ کہ آدمی کہاں کھڑا ہوا ہے اور وہ کون سا نقطہ ہے جہاں سے وہ اپنے سفر کا آغاز کر سکتا ہے ۔ اس دنیا میں ہم اکیلے نہیں ہیں۔ یہاں ایک طرف قدرت (نیچر) ہے جو ہم سے الگ خود اپنے قوانین پر قائم ہے ۔ اس کے ساتھ یہاں دوسرے انسان ہیں ۔ ان میں سے ہر انسان کے سامنے اپنا مقصد ہے اور ہر شخص اپنے مقصد کو حاصل کرنا چاہتا ہے ۔ ایسی حالت میں ضروری ہے کہ ہم ان حقیقتوں کو جانیں اور ان کی رعایت کرتے ہوئے اپنا مقصد حاصل کرنے کی کوشش کریں ۔
زندگی کا سب سے بڑا راز حقیقت واقعہ کا اعتراف ہے ۔ اعتراف کرنے والا آدمی اس بات کا ثبوت دیتا ہے کہ وہ جس طرح اپنے " ہے " کو جانتا ہے اسی طرح وہ اپنے " نہیں " سے بھی واقف ہے۔ وہ ایک طرف اگر یہ جانتا ہے کہ کیا چیز اس کے لیے قابلِ حصول ہے تو اسی کے ساتھ وہ اس سے بھی باخبر ہے کہ کیا چیز اس کے لیے قابل حصول نہیں ۔ وہ آغاز اور انجام کے فرق کو جانتا ہے ۔ اس کو معلوم ہے کہ اپنا پہلا قدم اسے کہاں سے اٹھانا ہے اور وہ کون سا مقام ہے جہاں وہ آخر کار اپنے آپ کو پہنچانا چاہتا ہے ۔ اعتراف بزدلی نہیں ، اعتراف سب سے بڑی بہادری ہے ۔ اعتراف کر کے آدمی بے عزت نہیں ہوتا ، وہ عزت کے سب سے بڑے مقام کو پا لیتا ہے ۔ جو شخص اعتراف نہ کرے وہ گویا فرضی خیالات میں جی رہا ہے ۔ اس کے برعکس جو شخص اعتراف کرے وہ اس بات کا ثبوت دیتا ہے کہ اس نے ۔ فرضی تخیلات کے طلسم کو توڑ دیا ہے ۔ وہ حقائق کی دنیا میں سانس لے رہا ہے ۔ وہ چیزوں کو ویسا ہی دیکھ رہا ہے جیسا کہ وہ فی الواقع ہیں ۔
چیزوں کو ان کی اصل صورت میں دیکھنا دانش مندی کا آغاز ہے ۔ جس آدمی کے اندر یہ صلاحیت ہو وہی کامیابی کے آخری زینے پر پہونچتا ہے ۔ جس آدمی کے اندر یہ صلاحیت نہ ہو وہ یا تو اپنا سفر شروع نہ کرے گا اور اگر سفر شروع ہو گیا تب بھی وہ درمیان میں اٹک کر رہ جائے گا ۔ وہ کبھی آخری منزل تک نہیں پہونچ سکتا ۔
‹ Previous page Next page › Contents of February 1986 All issues