Al-Risala · December 1986 · page 23

آزمودہ حل

الرسالہ، دسمبر ۱۹۸۶، صفحہ ۲۳

دو قسم کے انسان

کی دور کا واقعہ ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قبیلہ بنو عامر بن صعصعہ کے پاس گئے۔ ان کو اللہ کی طرف بلایا اور ان سے کہا کہ دعوت حق کے اس کام میں میری مدد کرو۔ ان میں سے ایک شخص اٹھا۔ اس کا نام بحیرہ بن فراس تھا۔ اس نے کہا کہ اگر ہم اس معاملہ میں آپ کا ساتھ دیں پھر اللہ آپ کو آپ کے مخالفین پر غالب کر دے تو کیا آپ کے بعد اقتدار (امر) میں ہمارا حصہ ہوگا۔ آپ نے فرمایا اقتدار اللہ کا ہے وہ جسے چاہتا ہے اسے دیتا ہے۔ اس کے بعد روایت کے الفاظ یہ ہیں : فقال له انهدف نحورنا للعرب اس نے آپ سے کہا کیا ہم آپ کی حمایت میں اپنے دونك فاذا اظهرك الله كان الامر سینہ کو سارے عرب کا نشانہ بنائیں پھر جب اللہ لغيرنا ؟ لا حاجة لنا بامرك آپ کو غلبہ دیدے تو اقتدار ہمارے سوا دوسرے فأبوا عليه ۔ کا ہو جائے ۔ ہم کو آپ کے دین کی ضرورت نہیں۔

(سیرت ابن ہشام جز ثانی صفحہ ۳۳) انھوں نے آپ کا ساتھ دینے سے انکار کر دیا۔ یہ ایک قسم کے انسان کی مثال تھی۔ اب دوسرے قسم کے انسان کی مثال لیجیے۔ مکی زندگی کے آخری زمانہ میں مدینہ کے کچھ لوگ آپ کے پاس آئے اور اسلام قبول کیا۔ لوگ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جمع ہوئے تو ان میں کا ایک شخص اٹھا۔ یہ عباس بن عبادہ بن نضلہ انصاری تھے۔ انھوں نے کہا کہ اے قبیلہ خزرج کے لوگو کیا تم جانتے ہو کہ تم اس آدمی سے کس چیز پر بیعت کر رہے ہو۔ انھوں نے کہا ہاں۔ کہا کہ تم تمام سرخ و سفید کے خلاف جنگ پر بیعت کر رہے ہو۔ اس میں تمہارے اموال برباد ہوں گے اور تمہارے بہترین افراد قتل کیے جائیں گے؛ قالوا فانا ناخدھا علی مصیبة الاموال وقتل انھوں نے کہا کہ پھر ہم ان کو اموال کی ہلاکت اور الاشراف۔ فما لنا بن ذلك يا رسول الله ان افراد کے قتل کے باوجود قبول کرتے ہیں۔ پھر اے نحن وفينا ۔ قال الجنة ۔ قالوا ابسط يدك خدا کے رسول ہمارے لیے کیا ہے اگر ہم اس کو پورا کر دیں۔ فبسط يده فنبايعوه ۔ آپ نے فرمایا جنت۔ انھوں نے کہا کہ ہاتھ بڑھائیے۔

(الجزء الثانی، ۵۵) آپ نے ہاتھ بڑھایا اور پھر انھوں نے بیعت کی۔

‹ Previous page Next page › Contents of December 1986 All issues

Printed page