Al-Risala · December 1986 · page 24

ہم کو فائدہ ہے

الرسالہ، دسمبر ۱۹۸۶، صفحہ ۲۴

ہم کو فائدہ ہے

ہندوستان کے ایک مسلمان لیڈر سے ملاقات ہوئی۔ وہ اردو کا ایک ہفتہ وار اخبار نکالتے ہیں۔ ابتداءََ ان کا اخبار عرصہ تک خسارہ پر چلتا رہا۔ مگر اب وہ نفع پر چل رہا ہے۔ گفتگو کے دوران انھوں نے بتایا کہ جب اپنا اخبار نکالا تو کوشش کے باوجود اس کی اشاعت کسی طرح تین ہزار سے آگے نہیں بڑھ رہی تھی۔ اسی حالت میں لمبی مدت گزر گئی۔ انھوں نے ہر قسم کی تدبیریں کر ڈالیں مگر اخبار کی اشاعت نہیں بڑھی۔ اس کے بعد1985 میں اجودھیا کی مسجد کا معاملہ پیش آیا۔ جو مسلمانوں کے نزدیک " بابری مسجد" ہے مگر ہندوؤں کا دعویٰ ہے کہ وہ " رام جنم بھومی " ہے۔ مذکورہ لیڈر نے فوراً اس کو پکڑ لیا۔ انھوں نے اس موضوع پر مسلسل دھواں دھار مضامین شائع کیے، اور ان پر تیز و تند سرخیاں قائم کیں۔ نتیجہ عین اندازے کے مطابق نکلا۔ ان کے اخبار کی اشاعت اچانک تین ہزار سے بڑھ کر تیس ہزار تک پہنچ گئی۔ ان کے پاس ہر طرف سے تحسین اور مبارک باد کے خطوط آنے لگے۔

بابری مسجد جیسے واقعات مسلم ملت کے لیے بری خبر کی حیثیت رکھتے ہیں۔ مگر وہ مسلم قیادت کے لیے اچھی خبر بن جاتے ہیں۔ وہ ایک کے لیے المیہ ہیں اور دوسرے کے لیے طربیہ۔ یہ کہانی محض ایک صحافی لیڈر کی کہانی نہیں، یہی ہماری تمام قیادت اور صحافت کی کہانی ہے۔ مذکورہ رو داد سن کر مجھے ایک صاحب کا قصہ یاد آگیا۔ وہ ایک دیہاتی مسلمان تھے۔ وہ اکثر قبروں اور درگاہوں پر جاتے اور وہاں مرادیں مانگتے۔ بستی کے ایک عالم نے ان کو اس سے منع کیا اور کہا کہ قبروں سے مرادیں مانگنا شرک ہے۔ عالم کے نزدیک اس قسم کا فعل شرک تھا۔ مگر مذکورہ دیہاتی مسلمان کا " تجربہ " تھا کہ وہ صاحب قبر سے جو مراد مانگتا ہے وہ پوری ہو جاتی ہے۔ مثلاً اس نے لڑکا مانگا تو اس کے یہاں لڑکا پیدا ہو گیا۔ چنانچہ عالم کی بات اس کی سمجھ میں نہیں آئی، اس نے چلا کر کہا :

ہم تو جائیں گے، ہم کو فائدہ ہے

راقم الحروف پہلے ہی سال سے مسلم رہنماؤں کو مشورہ دے رہا ہے کہ وہ جذباتی

‹ Previous page Next page › Contents of December 1986 All issues

Printed page