اسلام پسندوں کے مسائل
الرسالہ، دسمبر ۱۹۸۶، صفحہ ۲۸
اسلام پسندوں کے مسائل
ذوالفقار علی بھٹو ۱۹۷۳ سے ۱۹۷۷ تک پاکستان کے وزیرِ اعظم تھے۔ سید ابو الاعلیٰ مودودی اور پاکستان کے دوسرے اسلام پسند لوگوں نے ان کے خلاف تحریک چلائی اور اس کا نام "نظامِ مصطفےٰ" رکھا۔ اٹھارٹی کے خلاف عوام کو ابھارنا سب سے زیادہ آسان کام ہے۔ چنانچہ ان حضرات کی پر جوش تقریروں سے پاکستانی عوام بھڑک اٹھے۔ یہاں تک کہ بھٹو کی حکومت ختم ہوگئی۔ سید ابو الاعلیٰ مودودی اور اسلامی محاذ کے دوسرے لوگوں نے اپنی تقریروں اور تحریروں میں یہ تاثر دیا تھا کہ بھٹو کا جانا پاکستان میں اسلام کا آنا ہے۔ مگر بھٹو کے جانے کے بعد جو چیز پاکستان میں آئی وہ اسلامی محاذ کا آپس کا اختلاف تھا نہ کہ مثبت معنوں میں اسلام۔
یہی واقعہ موجودہ زمانہ میں اکثر ملکوں میں بار بار پیش آیا ہے، کہیں ایک صورت میں اور کہیں دوسری صورت میں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ "انقلاب" سے پہلے صرف ایک دشمن مشترک طور پر سب کا مرکز توجہ ہوتا ہے۔ مگر مشترک دشمن کے ہٹنے کے بعد جب تعمیر کا وقت آتا ہے تو معلوم ہوتا ہے کہ تعمیر ملک کے بارے میں ہر ایک کے ذہن میں الگ الگ نقشہ ہے۔ بس یہاں سے اختلاف شروع ہو جاتا ہے۔ منفی بنیاد پر متحد ہونے والے مثبت بنیاد پر متحد ہونے میں ناکام رہتے ہیں۔
یہ اختلافات کس قسم کے مسائل میں پیدا ہوتے ہیں ، اس کی ایک مثال لیجئے ۔ پاکستان کا ایک اردو ہفت روزہ " دید شنید " ہے۔ اس نے پاکستان کی تنظیمِ اسلامی کے امیر ڈاکٹر اسرار احمد صاحب کا انٹرویو لیا۔ اس انٹرویو کے سوالات میں سے ایک سوال یہ تھا: " اچھا اگر آپ کی حکومت ملک میں قائم ہو جائے تو آپ کے پاس تو پورے اختیار ہوں گے ۔ قومی زندگی میں خواتین کی شرکت کے بارے میں آپ کا کیا رویہ ہوگا۔ آپ کہاں تک اجازت دیں گے ؟ " اس سوال کے جواب میں تنظیم اسلامی کے امیر نے جو باتیں کہیں ان میں سے ایک بات یہ تھی: " ہم پرائمری تعلیم پوری عورتوں کے حوالہ کردیں گے۔ ہم پابندی لگادیں گے کہ کوئی مرد پرائمری
‹ Previous page Next page › Contents of December 1986 All issues