Al-Risala · December 1986 · page 27

ایک تقریر

الرسالہ، دسمبر ۱۹۸۶، صفحہ ۲۷

نہیں دیتا۔ وہ انسان بے دماغ ہے جو یہ کہتا ہے کہ اس نے خدا کو نہیں پایا، یا یہ کہ خدا کو پایا نہیں جاسکتا۔

خدا بلاشبہ اتنا بڑا ہے کہ وہ ہمارے مشاہدہ میں نہیں سماتا۔ مگر بلاشبہ وہ تمام چیزوں سے زیادہ ہم سے قریب ہے۔ موجودہ دنیا میں ہم خدا کو اس کی ذات میں نہیں دیکھ سکتے۔ مگر خدا کو اس کی صفات میں ہم ہر جگہ دیکھتے ہیں اور ہر وقت دیکھ سکتے ہیں۔ موجودہ دنیا میں یہی خدا کو دیکھنا ہے، یہی خدا کو پانا ہے۔

کار کو کارخانہ کا انجینئر بناتا ہے۔ انجینئر کار میں ہر وقت بیٹھا ہوا نہیں ہوتا۔ مگر جس شخص نے کار میں صرف کار کو دیکھا اس نے کچھ نہیں دیکھا۔ کار کو دیکھنے والا وہ ہے جو کار کو دیکھتے ہی اس کے انجینئر کو بھی دیکھ لے۔ اسی طرح انسان خدا کو دیکھتا ہے۔ اگر آپ نے سورج میں صرف سورج کو دیکھا تو آپ نے کچھ نہیں دیکھا۔ سورج کو دیکھنے والا وہ ہے جس نے سورج میں خدا کے روشن چہرہ کو دیکھ لیا ہو۔ جس نے پہاڑ میں صرف پہاڑ کو دیکھا اس نے کچھ نہیں دیکھا۔ پہاڑ کو دیکھنے والا وہ ہے جس نے پہاڑ میں خدا کی عظمتوں کو پا لیا ہو۔ خدا کوئی دور کی چیز نہیں ۔ وہ آسمان کی وسعتوں میں ظاہر ہوا ہے۔ وہ چڑیوں کے چہچہے میں بول رہا ہے۔ وہ پھولوں کی لطافت میں مسکرا رہا ہے۔ وہ ہواؤں کے جھونکے میں آپ کو چھورہا ہے۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ خدا ہر طرف اور ہر جگہ ہے۔ وہ ہم سے بالکل الگ ہے، اسی کے ساتھ وہ ہم سے انتہائی قریب ہے۔ پھر بھی جو انسان خدا کو نہ دیکھے وہ اندھا ہے۔ اس کے باوجود جو انسان خدا کو نہ پائے وہ محرومی کی اس انتہا پر ہے جس کے آگے محرومی کا کوئی درجہ نہیں۔ خدا کو پانا ایسا ہی ہے جیسے اپنے آپ کو پانا۔ کون ہے جو اپنے آپ کو پائے ہوئے نہ ہو۔ اس لیے کوئی شخص بھی ایسا نہیں ہو سکتا جو خدا کو پانا چاہے پھر بھی وہ اس کو نہ پاسکے۔ جو شخص اپنی آنکھیں بند کرلے وہ سورج کو نہیں دیکھتا۔ ایسے شخص کے چاروں طرف سورج اپنی بے پناہ روشنی کے ساتھ موجود ہوگا مگر وہ سورج کو نہیں دیکھے گا۔ اسی طرح خدا ہر لمحہ آدمی کے چاروں طرف موجود ہے۔ مگر جس شخص نے اپنی بصیرت کو کند کر لیا ہو وہ کبھی خدا کو دیکھنے کی سعادت حاصل نہیں کر سکتا۔ بھوپال، ۱۹ اپریل ۱۹۸۶ء

‹ Previous page Next page › Contents of December 1986 All issues

Printed page