Al-Risala · December 1986 · page 31

سرکشی

الرسالہ، دسمبر ۱۹۸۶، صفحہ ۳۱

ایک سفر

پٹنہ ریاست بہار کی راجدھانی اس کا قدیم نام پاٹلی پتر تھا۔ مگدھ کے راجہ نے پانچویں صدی قبل مسیح میں پاٹلی پتر کی بنیاد رکھی۔ مگدھ کے بعد نندا اور مور یہ اور سوند گ نے یہاں راج کیا۔ چندر گپت مور یہ (۲۹۷ - ۳۲۱ ق م) کے زمانہ میں ایک یونانی سفیر میگاس تھینز (Megasthenes) یہاں آیا اور کئی سال مقیم رہا۔ اس نے اپنی یاد داشت میں یہاں کے راجہ کے حالات لکھے ہیں۔ چندر گپت مور یہ حضرت مسیح سے پہلے پیدا ہوا، اور اس کا تذکرہ اس کے معاصر مورخین کی کتابوں میں موجود ہے۔ مگر حضرت مسیح کا تذکرہ ان کے معاصر مورخین کی کتابوں میں موجود نہیں ہے۔ کیسی عجیب بات ہے کہ جن شخصیتوں کو آج لوگ خدا کے پیغمبر کی حیثیت سے عظمت و تقدس کا اعلیٰ ترین درجہ دیے ہوئے ہیں ان کے ہم زمانہ لوگوں کی نظر میں وہ سرے سے کوئی قابل ذکر چیز ہی نہ تھے ۔ افغان حکمراں شیر شاہ نے اس علاقہ کو ۱۵۴۱ میں فتح کیا اور اس کا نام پٹنہ رکھا۔ شیر شاہ کی حکومت صرف پانچ سال تک باقی رہی۔ اس کے بعد پٹنہ اورنگ زیب (۱۶۷۰ - ۱۶۵۹) کے ماتحت آیا اور اس نے اپنے پوتے شہزادہ عظیم کے نام پر اس کا نام عظیم آباد رکھا۔ انگریزی دور میں دوبارہ وہ پٹنہ بن گیا۔ یہ ۱۸۲۵ کا واقعہ ہے۔ پٹنہ یونیورسٹی ۱۹۱۷ میں قائم ہوئی ۔ یہاں کی قدیم عمارتوں میں سے ایک بنگال کے ہمایوں شاہ کی مسجد بھی ہے جو ۱۵۹۹ میں تعمیر ہوئی تھی ۔

ایک پروگرام کے تحت ۱۲ جولائی ۱۹۸۶ کی صبح کو میں پٹنہ پہنچا۔ اور ۱۳ جولائی کی شام کو پٹنہ سے دہلی واپس آیا ۔

۱۲ جولائی کی صبح کو ۱۰ بجے پٹنہ کے تعلیم یافتہ افراد کی ایک نشست ہوئی۔ اس نشست کا انتظام پٹنہ ہائی کورٹ کے سینیر جج آنریبل مسٹر جسٹس ایس کے جھانےاپنی سرکاری رہائش گاہ پر کیا تھا۔ اس میں ہندو مسلم دونوں طبقہ کے لوگ شریک تھے۔ جسٹس جھا نے اپنی تمہیدی گفتگو میں کہا کہ "مولانا صاحب اسٹانچ مسلم ہیں اور میں

‹ Previous page Next page › Contents of December 1986 All issues

Printed page