Al-Risala · December 1986 · page 32

سرکشی

الرسالہ، دسمبر ۱۹۸۶، صفحہ ۳۲

اسٹانچ ہندو ہوں۔ اس لیے میرے اور ان کے درمیان موافقت ہونا بہت مشکل ہے “ اس کے بعد میں نے تقریر کی اور تقریباً پون گھنٹہ تک اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ آخر میں جسٹس جھا دوبارہ بولے۔ انھوں نے کہا کہ اب میں اپنی پہلی والی بات کو واپس لیتا ہوں۔ مولانا صاحب نے جو بات کہی وہ بہت اچھی اور گہری بات ہے۔ اس کو سمجھنے کے لیے مجھے ایک ہفتہ لگے گا ۔

حاضرین میں سے ایک معمر آدمی نے کہا کہ میری عمر 78سال ہو چکی ہے۔ میں کہہ سکتا ہوں کہ اپنی پوری عمر میں کبھی میں نے ایسی باتیں نہیں سنیں جو آج میں نے مولانا صاحب کی زبان سے سنی ہیں۔ ہائی کورٹ کے ایک ہندو رجسٹرار نے کہا کہ یہ بڑی عجیب تقریر تھی۔ مجھے معلوم نہ تھا کہ مذہب کا یہ مطلب بھی ہے ۔

پٹنہ میں میرا قیام مسٹر ایم ٹی خان کے مکان (عدالت گنج) پر تھا۔ یہاں لوگ برابر آتے رہے اور ان سے مختلف اسلامی موضوعات پر تبادلہ خیال ہوتا رہا ۔ ان آنے والوں میں مسلم بھی تھے اور ہندو صا حبان بھی ۔

۱۲ جولائی کی شام کو نماز مغرب کے بعد ایک اجتماع ہوا۔ اس کا مقام خدا بخش لائبریری (پٹنہ) کا ہال تھا۔ لوگ بڑی تعداد میں آئے۔ ہال اس طرح بھرا ہوا تھا کہ لوگوں کے لیے کھڑے ہونے کی جگہ بھی نہیں تھی۔ چنانچہ بعد کو آنے والے گیلری میں کھڑے ہو کر سنتے رہے تقریر کا موضوع " اسلام اور عصر حاضر " تھا۔ سخت گرمی تھی۔ بیٹھنے کی جگہ بھی نہیں تھی۔ مگر ایک ایک شخص آخر تک دم بخود ہو کر سنتا رہا۔

آخر میں سوالات کا اعلان کیا گیا۔ تاہم بیشتر لوگ اپنے تاثر کے تحت چپ رہے۔ البتہ چند افراد نے سوالات کیے۔ میں نے سوالات کی وضاحت کی۔ مگر یہ سوالات زیادہ تر اصل موضوع سے غیر متعلق تھے ۔ ایک صاحب جن کا تعارف " پروفیسر " کے لفظ سے کیا گیا۔ انھوں نے کہا کہ قرآن میں لکھا ہوا ہے کہ الشمس تجری لمستقر لہا ۔ یعنی سورج چل رہا ہے جب کہ علم الافلاک کہتا ہے کہ سورج اسٹیشنری (غیر متحرک) ہے۔ میں نے کہا کہ یہ بات صحیح نہیں ۔ جدید فلکیات واضح طور پر سورج کو متحرک بتاتی ہے۔ بلکہ جدید سائنس کے نزدیک

‹ Previous page Next page › Contents of December 1986 All issues

Printed page