Al-Risala · December 1986 · page 42

اخلاقی قیادت

الرسالہ، دسمبر ۱۹۸۶، صفحہ ۴۲

اخلاقی قیادت

کچھ مسلم رہنما اپنی تقریروں میں پر جوش طور پر کہتے ہیں : مسلمانوں کو آگے بڑھ کر اس ملک کی اخلاقی قیادت اپنے ہاتھ میں لینا چاہیے ۔ مگر موجودہ حالت میں یہ لفظی بازیگری کے سوا اور کچھ نہیں۔ " اخلاقی قیادت " کوئی تقریری اجلاس کی صدارت نہیں جو ایک شامیانہ پھیلا کر اس کے نیچے حاصل ہو جاتی ہے ۔ وہ ایک عظیم قربانی کے ذریعہ حاصل ہونے والا عظیم نتیجہ ہے ۔ اخلاقی قیادت سب سے بڑا انسانی شرف ہے جو سب سے بڑی انسانیت کا ثبوت دینے کے بعد ملتا ہے ۔ اخلاقی قیادت کسی کو شاعری اور خطابت کی قیمت پر نہیں ملتی ۔ وہ عمل اور کردار کی اعلیٰ ترین متاع دے کر حاصل ہوتی ہے ۔ اخلاقی قیادت حاصل کرنے کا سب سے بڑا راز ایک طرفہ حسن اخلاق ہے جس کو قرآن میں خلق عظیم کہا گیا ہے۔ یہ عمل کی اس نادر قسم کا ثبوت دینے کے بعد حاصل ہوتی ہے جب کہ آدمی اپنے آپ کو اتنا اونچا اٹھا لے کہ وہ تنقید کے باوجود برہم نہ ہو، وہ نفرت کرنے والوں کے ساتھ محبت کرے ۔ وہ ظلم کرنے والوں کے ساتھ انصاف کرے ۔ وہ چھیننے والوں کو بھی دینے کا حوصلہ رکھتا ہو ۔ وہ اپنے دشمن کو بھی دوست کی طرح سینے سے لگا سکے ۔ حقوق کی چیخ پکار کرنے والوں کو کبھی اخلاقی قیادت نہیں ملتی ۔ اس دنیا میں اخلاقی قیادت صرف ان بلند انسانوں کو ملتی ہے جو اپنی آنکھوں کے سامنے اپنے حقوق کو پامال ہوتے ہوئے دیکھیں پھر بھی اس کے خلاف فریاد و ماتم نہ کریں ۔

اخلاقی قیادت در اصل بلند اخلاقی کے ذریعہ حاصل ہونے والے نتیجہ کا دوسرا نام ہے۔ آدمی جب اس حد تک اوپر اٹھے کہ وہ ایک طرفہ طور پر اپنے حقوق سے دست بردار ہو جائے ۔ اس کی مسلسل قربانیوں سے جب لوگوں کے اوپر کھل جائے کہ وہ دوسروں سے مختلف ہے ۔ لوگ مادی سطح پر جی رہے ہیں اور وہ غیر مادی سطح پر ۔ اسی وقت یہ ممکن ہوتا ہے کہ آدمی فریق ثانی کے دل کو جیت سکے جس کا دوسرا نام اخلاقی قیادت ہے ۔ قرآن کے الفاظ میں ، اخلاقی قیادت صبر کی زمین پر ابھرتی ہے نہ کہ چیخ پکار کی زمین پر ۔ (السجدہ ۲۴) ایک طرف احتجاج اور مطالبہ کی بات کرنا اور دوسری طرف اخلاقی قیادت کا نعرہ لگانا صرف ایک فکری تضاد ہے۔ ایسے لوگوں کے لیے خدا کی دنیا میں صرف اخلاقی پستی کا مقام مقدر ہے نہ کہ اخلاقی قیادت کا ۔

‹ Previous page Next page › Contents of December 1986 All issues

Printed page