جو بولا وہ نہیں بولا، جو چپ رہا وہی بولا
الرسالہ، دسمبر ۱۹۸۶، صفحہ ۴۱
بھی بہت سے انسان ہیں۔ یہ ایک بے حد قدیم تصور ہے۔ تاہم 18 ویں اور 19 ویں صدی میں وہ فلسفیانہ غور و بحث کا موضوع بن گیا۔ بعض مفکرین (مثلاً برٹرینڈ رسل) نے کامن سنس کی موجودگی کا انکار کیا۔ کچھ دوسرے علماء (مثلاً ٹامس ریڈ، جی ای مور) نے اس کو تسلیم کرتے ہوئے اس کو ایک منظم فلسفہ کے روپ میں پیش کرنے کی کوشش کی۔ اس سلسلہ میں جی ای مور کی کتاب عقل عام کا دفاع (Defence of Common Sense) نے بہت مقبولیت حاصل کی۔ یہ کتاب پہلی بار 1925 میں شائع ہوئی ۔
تاہم پٹنہ کی مذکورہ تحریک (کامن سنس) کا تعلق اس قسم کی فلسفیانہ تحریکوں سے نہیں ہے۔ وہ سادہ طور پر انسانی فطرت کو جگانے اور عوام کے اندر تعمیری شعور پیدا کرنے کی تحریک ہے۔ اس تحریک کے سیکریٹری مسٹر ایم ٹی خان ہیں۔ سفر سے واپسی کے بعد موصوف کا ایک مفصل خط ہمیں موصول ہوا ہے۔ اس خط کے بعض اجزاء یہاں نقل کیے جاتے ہیں :
‹ Previous page Next page › Contents of December 1986 All issues