Al-Risala · December 1986 · page 44

انسانی صفات

الرسالہ، دسمبر ۱۹۸۶، صفحہ ۴۴

خبر نامہ اسلامی مرکز ۲۵

یہ اللہ کا فضل ہے کہ اس نے الرساله کو اس دینی عمل کا ذریعہ بنا دیا جس کو قرآن میں "تزکیہ" کہا گیا ہے۔ روزانہ خطوط سے اس کا اندازہ ہوتا رہتا ہے ۔ ایک صاحب کان پور سے اپنے خط (۲ ستمبر ۱۹۸۶) میں لکھتے ہیں : " ۱۹۸۵ سے الرسالہ کا مستقل خریدار ہوں ۔ ۵ کاپیاں میرے یہاں آتی ہیں ۔ رسالہ کیا ہے تازیانہ ہے جس کے پڑھنے کے بعد ذہن فوراً آخرت کے احوال کی طرف منتقل ہو کر قلب میں ایک کیفیت پیدا ہوتی ہے جو بیان سے باہر ہے " ایک صاحب اورنگ آباد سے اپنے خط ( ۲۸ ستمبر ۱۹۸۶ ) میں لکھتے ہیں: آپ کی مطبوعات نہ صرف دین کی اشاعت کا ذریعہ ہیں ، بلکہ ذہنوں اور خیالات کو موڑنے کا ایک بہت ہی موثر ذریعہ ہیں۔ ہم بہت سے نوجوان آپ کی مطبوعات کا بغور مطالعہ کرتے ہیں۔ الرسالہ کا ہم لوگوں کو بڑی بے چینی سے انتظار رہتا ہے اور اس کے آنے پر ایک ایک رسالہ کئی کئی بار پڑھا جاتا ہے، انفرادی طور پر بھی اور اجتماعی طور پر بھی ۔ اللہ تعالیٰ کے کرم کے نتیجہ میں نوجوان طبقہ نمازوں سے جڑتا ہو لہے ۔

انگریزی الرسالہ خدا کے فضل سے دن بدن اپنا نفوذ بڑھاتا جا رہا ہے۔ اس کی مثالیں مختلف شکلوں میں برابر سامنے آتی رہتی ہیں۔ مثلاً ایران کے ایک اسکالر علی امیر بایات لندن گئے۔ وہاں انھوں نے کسی کے یہاں انگریزی الرسالہ کا ایک شمارہ دیکھا ۔ وہ ان کو پسند آگیا ۔ انھوں نے لندن سے اس کا سالانہ زر تعاون بھیجتے ہوئے لکھا ہے کہ ان کے تہران کے پتہ پر انگریزی الرسالہ جاری کر دیا جائے۔ ہندوستان کے ایک بڑے شہر سے ایک صاحب لکھتے ہیں : الحمد للہ اب الرسالہ کے مشن کو لوگ سنجیدگی سے سمجھ رہے ہیں، اور آپ کی پالیسی جو عین اسلامی پالیسی ہے، اس کے قائل ہونے لگے ہیں ۔ اس کی مثال ہمارے شہر میں دیکھنے کو ملی۔ ۱۰ اکتوبر ۱۹۸۶ کو رات میں یہاں ایک میٹنگ ہوئی جس کی وجہ یہ تھی کہ ہمارے یہاں کے ایک غیر مسلم ہفتہ وار اخبار نے کچھ باتیں اسلام اور قرآن کے بارے میں

‹ Previous page Next page › Contents of December 1986 All issues

Printed page