انسانی صفات
الرسالہ، دسمبر ۱۹۸۶، صفحہ ۲۵
توڑ مروڑ کر لکھ دی تھیں جس پر کچھ نوجوان احتجاجی کارروائی کرنا چاہتے تھے۔ لیکن کچھ لوگ میٹنگ میں ایسے بھی تھے جو الرسالہ کے قاری ہیں۔ انھوں نے نوجوانوں کو ایسے اقدام سے روکا۔ میں خود اس مجلس میں حاضر نہ تھا۔ وہ لوگ جو اس مجلس میں حاضر تھے وہ دوسرے دن مجھ سے ملے تو کہنے لگے کہ کل میٹنگ میں تمہاری بہت یاد آئی۔ اگر تم وہاں ہوتے تو بہت خوش ہوتے۔ کیوں کہ اس میں الرسالہ کی پالیسی پر عمل کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔
4| الرسالہ کی دعوت کے سنجیدہ دعوت ہونے کا اعتراف اب عام طور پر کیا جانے لگا ہے۔ مہاراشٹر کے ایک قاری اپنے خط (۱۳ اکتوبر ۱۹۸۶) میں لکھتے ہیں: بمبئی کا سفر نامہ جو ماہ اکتوبر ۱۹۸۶ کے الرسالہ میں چھپا ہے، اس پر بہت سے لوگوں سے گفتگو ہوئی اور بار بار ہو رہی ہے۔ سب کی زبان پر ایک ہی بات ہے۔ "کچھ علوم وہ ہیں جو درد کی درسگاہ میں پڑھائے جاتے ہیں" (صفحه ۴۲) یقینا مولانا صاحب درد کی درسگاہ کے طالب علم ہیں، ورنہ ان کی زبان سے یہ جملہ کبھی نہ نکلتا۔ 5| آج کل کئی کتابیں زیر طبع ہیں۔ اردو میں: تذکیر القرآن جلد دوم، خاتونِ اسلام، رازِ حیات، تعلیماتِ اسلام، تعبیر کی غلطی۔ ہندی میں: انسان اپنے آپ کو پہچان، حقیقت کی تلاش۔ انگریزی میں: مذہب اور جدید چیلنج، تبلیغی تحریک انسان اپنے آپ کو پہچان۔
6| خواتین کے حلقہ میں بھی خدا کے فضل سے الرسالہ برابر پھیلتا جا رہا ہے۔ علی گڑھ سے ایک خاتون لکھتی ہیں: "میں ایک طالبہ ہوں۔ دو سال سے الرسالہ اور تذکیر القرآن غور سے پڑھتی ہوں ۔ اس کے ذریعہ دل و دماغ بدلتے جا رہے ہیں۔ جب ہم کچھ خواتین صبح کو ایک جگہ جمع ہو کر بیٹھتی ہیں اور الرسالہ اور تذکیر القرآن کو مل کر پڑھتی ہیں تو محسوس ہوتا ہے کہ مولانا کے سوز دروں اور باطن کے درد نے ان کی زبان کے الفاظ میں بجلی سا اثر پیدا کر دیا ہے۔ یقین کیجئے کہ ہم الرسالہ کا انتظار اس طرح کرتے ہیں جس طرح بچے بے چینی کے ساتھ صبح عید کا انتظار کرتے ہیں۔
‹ Previous page Next page › Contents of December 1986 All issues